Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

بیگم بلقیس افندی — وادیِ سوات کی خاموش محسنہ

  بیگم بلقیس افندی — وادیِ سوات کی خاموش محسنہ سوات (لطیف الرحمان): وادیٔ سوات — ایک ایسا خطہ جہاں ہر پہاڑ اپنی کہانی رکھتا ہے، ہر ندی ایک ن...

 




بیگم بلقیس افندی — وادیِ سوات کی خاموش محسنہ

سوات (لطیف الرحمان): وادیٔ سوات — ایک ایسا خطہ جہاں ہر پہاڑ اپنی کہانی رکھتا ہے، ہر ندی ایک نغمہ گنگناتی ہے، اور ہر خوشبو کسی نہ کسی یاد سے وابستہ ہے۔ انہی خوشبوؤں میں ایک مہک ہے جو دھان کے خوشے سے اُٹھتی ہے، نرم ہوا کے سنگ رقص کرتی ہے، اور فصلوں کے بیچوں بیچ ایک داستان سناتی ہے — بیگم بلقیس افندی کی داستان۔ یہ وہ نام ہے جس نے 1949ء میں سوات کی زمین پر ایک نئی فصل کا بیج بویا، اور اس بیج سے صرف چاول ہی نہیں، بلکہ ایک روایت، ایک شناخت اور ایک رزقِ خوشبو پیدا ہوا۔ بیگم بلقیس افندی کا تعلق ایک موقر اور تعلیم یافتہ خاندان سے تھا۔ زمانہ جدید کا ذوق بھی رکھتی تھیں اور مٹی سے جڑے رشتوں کو بھی سمجھتی تھیں۔ افغانستان کے ایک سفر سے وہ جب واپس آئیں تو اپنے ساتھ کچھ بیج لائیں — چاول کے بیج۔ شاید اُن لمحوں میں انہیں خود بھی اندازہ نہ تھا کہ یہ بیج ایک دن ”بیگمائی“ کے نام سے پہچانے جائیں گے، اور ان کا اپنا نام سوات کی زراعتی تاریخ میں امر ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بیج باغ ڈھیری کے نخلستان میں کاشت کیے۔ سوات کی زرخیز مٹی، دریائے سوات کی نمی، اور بیگم صاحبہ کے ذوقِ محنت نے مل کر ایک نئی فصل کو جنم دیا۔ جب پہلی بار ان چاولوں کی فصل تیار ہوئی، تو لوگوں نے محسوس کیا کہ اس کے دانے دوسرے چاولوں سے نازک تر، خوشبودار اور نرم ہیں۔ تب اہلِ سوات نے محبت سے کہا — یہ تو بیگمائی چاول ہیں!


وقت گزرتا گیا، نسلیں بدل گئیں، مگر بیگم بلقیس افندی کی یاد دھان کی ہر خوشبو میں بسی رہی۔ ان کے نام سے منسوب یہ چاول نہ صرف سوات کی شناخت بنے بلکہ اس علاقے کی معیشت اور ثقافت کا حصہ بھی۔ بیگم بلقیس افندی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محبت اگر مٹی سے ہو، تو مٹی خوشبو دے ڈالتی ہے۔ ایک عورت، جس نے اپنی بصیرت، علم، اور فطرت سے رشتہ جوڑ کر ایک علاقے کے لوگوں کے رزق میں برکت پیدا کی — وہ دراصل ایک خاموش محسنہ تھیں۔ نہ ان کے نام کے طبل بجے، نہ ان کے کارنامے پر تمغے لگے، مگر سوات کی ہر فصل ان کے احسان کی گواہ ہے۔ آج جب کوئی کسان فصل کاٹتا ہے، یا کوئی ماں بیگمائی چاولوں سے خوشبودار پلاؤ پکاتی ہے، تو ان لمحوں میں بیگم بلقیس افندی کی روح شاید مسکرا کر کہتی ہوگی ! “میں نے محبت بوئی تھی، اور یہ اس کا پھل ہے۔”

لطیف الرحمان

سوات، 25 اکتوبر، 2025




ليست هناك تعليقات

Hi

ہم سے رابطہ