محمد افضل خان لالہ پختون قوم پرست سیاست کا ایک بڑا نام پشتون قوم پرست سیاست میں باچاخان اور ولی خان کے بعد ایک ایسا معتبر نام جو جرأت، اصو...
محمد افضل خان لالہ
پختون قوم پرست سیاست کا ایک بڑا نام
پشتون قوم پرست سیاست میں باچاخان اور ولی خان کے بعد ایک ایسا معتبر نام جو جرأت، اصول پسندی اور قومی غیرت کی علامت محمد افضل خان لالہ جن کو پشتون پیار سے خان لالہ پکارتے تھے۰ آج اس عظیم رہنما کی رحلت کو دس برس بیت گئے، مگر ان کی بلند قامت شخصیت کا اثر اور مثال آج بھی زندہ ہے
1926 میں سوات کے حسین وادی میں خان محمد خان حبیب کے گھر آنکھ کھولنے والے خان لالا نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی. بعدازاں گورنمٹ کالج لاہور اور پشاور یونیورسٹی میں سیاسیات اور قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۰ وہ تعلیم جو آگے چل کر ان کے سیاسی ویژن کی بنیاد بنی۰
سیاست میں قدم رکھا تو افضل خان لالا نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان کے قریبی اور سب بااعتماد ساتھی بن گئے۰
1970 میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مفتی محمود کی حکومت میں وزیر رہے مگر 1975 میں، ریاستی جبر کے ایک سیاہ باب حیدرآباد سازش کیس میں ولی خان اور ساتھیوں کے ساتھ گرفتار ہوئے اور قریب تین سال جیل میں گزارے۰اس قید نے ان کے خیالات کو توانا تر کیا۰وہ ایک لمبے عرصے تک نیپ اور پھر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر منتخب ہوتے رہے۰ مگر 1989 میں بیگم نسیم ولی خان کے ساتھ تنظیمی اختلافات پر پارٹی سے راہیں جدا کرکے باوقار انداز میں الگ ہوئے۰ پہلے اے این پی حقیقی اور بعدازاں 1991 میں افراسیاب خٹک اور لطیف افریدی کی قومی انقلابی پارٹی کے ساتھ انضمام کے بعد اپنی پختونخواہ قومی پارٹی بنا ڈالی۰ ۰1991کے بعد افراسیاب خٹک اور پھر لطیف آفریدی نے ان سے اپنے راستے جدا کیئے تو خان لالہ نے پختون قومی وحدت کے حصول کے لیئے جدوجہد کا سفر اکیلے جاری رکھا۰
وہ 1990 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اپوزیشن کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نامزد ہوئے۰اسی روز قومی اسمبلی میں تاریخ رقم ہوئی۰جب انہوں نے پہلی مرتبہ بلند آواز سے کہا “ہمارا صوبہ پختونخوا ہے اسپر مسلم لیگ ن کے اسپیکر گوہر ایوب نے انہیں روکنا چاہا لفظ پختونخوا کی بجائے صوبہ سرحد کہنے کو کہا مگر خان لالا کسی قیمت پر جھکنے والے نہیں تھے اور بالآخر اپنا موقف منوانے میں کامیاب ہوئے یہ لمحہ پشتون شناخت کی پارلیمانی تاریخ کا سنگِ میل ہے
1993 میں دوبارہ قومی اسمبلی پہنچے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر امور کشمیر مقرر ہوئے۔ وزارت کے دوران بھی پشتون قوم کی وحدت اور حقوق ان کی ترجیحات میں سرفہرست رہیں
لر و بر پشتون وحدت افضل خان لالا کا بنیادی نظریہ تھا۰ وہ کہاکرتے تھےکہ جب تک پشتون متحد نہیں ہوں گے انکی محرومیاں ختم نہیں ہوسکتیں۰اسی سوچ کے تحت انہوں نے پشاور میں دو مرتبہ تاریخی جرگے اپنے ذاتی خرچ پر منعقد کیے۰ سن 2000 پشاور تحصیل گورگھٹڑی ہال اور 2012 پشاور نشتر ہال جسمیں دنیا بھر کے پشتون شریک ہوئے، قومی وحدت اور مسائل پر مشاورت ہوئی۰2004 میں پشاور پریس کلب میں ڈیورنڈ لائن پر ایک بڑا سیمینار بھی کیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور افغان حکومتی نمائندوں نے شرکت کی۰خان لالہ کی ھدایت پر اس تاریخی سیمنار کے نظامت کے فرائض مجھ ناچیز نے ادا کیئے تھے۰ 2006 میں خان عبدالولی خان کی رحلت کے بعد اسفندیار ولی خان کی خواہش پر حاجی غلام احمد بلور، بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کی بھر پور کوششوں سے خان لالہ عوامی نیشنل پارٹی میں اس شرط پر دوبارہ شمولیت اختیار کرنے پر آمادہ ہوئے کہ پارٹی اپنی سنٹرل کمیٹی بلا کر اپنے منشور میں پختون قومی وحدت کے حصول کی شق شامل کرے۰ پارٹی نے انکی خواہش کے احترام میں انکا یہ مطالبہ پورا کیا تو انھوں نے باقائدہ طور پر عوامی نیشنل پارٹی میں دوبارہ شمولیت اختیار کی۰ یاد رہے کہ اس دوران ھم نے بشیر خان اور افضل خان لالہ کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۰ میرے برطانیہ منتقلی کے بعد بشیر خان اور میاں صاحب نے اپنی کوششیں جاری رکھی اور بلاخر خان لالہ کو اے این پی میں واپس لانے میں کامیاب ہوئے۰
دہشت گردی کے خلاف افضل خان لالہ کی تاریخی مزاحمت
جب سوات دہشتگردی کی لپیٹ میں آیا، تو بہت سے بااثر لوگ علاقے چھوڑ گئے مگر خان لالا اپنی دھرتی کی چوٹی پر ڈٹے رہے۔2008 میں طالبان نے ان پر حملہ کیا، وہ زخمی ہوئے.ان کے گھر پر بارہا حملے کیے گئے،مگر وہ اپنے لوگوں کے درمیان موجود رہے. دوستوں اور بہی خواہوں کے بے حد اسرار کے باوجود انھوں نے سوات چھوڑنے سے انکار کیا۰انکی یہ جرات، مزاحمت اور استقامت تاریخ میں ہمیشہ مثال رہے گی
آخری سفر اور رحلت
خان لالہ نے شدید بیماری کے باوجود 2014 میں آخری بار
جرمنی اور برطانیہ کا دورہ کیا۰ جرمنی میں اپنے دیرینہ ساتھی کبیر ستوری کی جماعت PSDP کے تنظیمی ارکان سے ملاقاتیں کیں جبکہ برطانیہ میں انھوں نے ھم کو شرف میزبانی بخشا۰خان لالہ ان دنوں جگر کی بیماری میں مبتلا تھے انکی فرمائش پر ھم نے مانچسٹر کے مشہور ھومیو پیتھک ڈاکٹر ڈیوڈ اینسن سے انکا معائنہ کروایا۰ لندن میں پاکستان کے ھائی کمشنر اور خان لالہ کے درینہ دوست مرحوم واجد شمس الحسن کو انکی برطانیہ آمد کا پتہ چلا تو فوراً ھم کو فون کر کے خان لالہ کو لندن آنے کی دعوت دی۰ ھم انکو 14 مارچ 2014 کو لندن لے گئے جہاں ھم اے این پی برطانیہ کے جنرل سیکٹری مرحوم جاوید اخونزادہ کے ہاں ٹھرے۰ صبح واجد شمس الحسن سے ملاقات کی اور دوپہر کو معروف افغان راھنما محترم نور وہاب سپاند صاحب کے گھر کھانے کی دعوت میں شریک ہوئے جن میں اے این پی لندن کے راھنماؤں ڈاکٹر ذوالفقار علی، مرحوم سعید عظیم بی بی سی اردو کے عادل شاہزیب کے علاوہ سابقہ خلق و پرچم پارٹیوں کے متعدد راھنماؤں نے شرکت کی۰
دسمبر 2014 کو ھم پاکستان گئے تو خان لالہ سے ملنے ان کے گھر درشخیلہ سوات گئے۰اپنے روایتی محبت و شفقت سے ملے۰ ھشاش بشاش اور صحت مند نظر آرہے تھے۰ دوپہر کے کھانے پر اورکھانے کے بعد پختون قومی سیاست دہشت گردی اور افغانستان کے حالات پر طویل گفتگو کی۰ ھم نے رخصت ہونا چاہا تو خان لالہ دیر تک ھمارے ہاتھ کو ہاتھ میں لیئے ھم کو ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا بلکہ گاڑی تک ساتھ چل کر آئے۰
مختصر علالت کے بعد یکم نومبر 2015 کو یہ عظیم پشتون رہنما اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۰اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۰ آمین
محفوظ جان

ليست هناك تعليقات
Hi