عثمانی خلافت کے عرب اتحادی: امیر سعود بن عبدالرشید امیر سعود بن عبدالرشید کا تعلق شمر قبیلے سے تھا، جو جزیرہ نما عرب کے طاقتور قبائل میں ش...
عثمانی خلافت کے عرب اتحادی: امیر سعود بن عبدالرشید
امیر سعود بن عبدالرشید کا تعلق شمر قبیلے سے تھا، جو جزیرہ نما عرب کے طاقتور قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ ان کا خاندان نجد اور حجاز کے علاقوں میں عثمانی سلطنت کے مضبوط اتحادیوں میں شامل تھا۔ وہ جبل شمر (موجودہ سعودی عرب کے علاقے حائل) کے حکمران تھے اور عثمانی سلطنت کے سخت حامیوں میں شمار ہوتے تھے
سعود بن عبدالرشید نے سلطنتِ عثمانیہ کے آخری دور میں فخرالدین پاشا کے ساتھ کئی فوجی مہمات میں حصہ لیا۔ فخرالدین پاشا وہی عثمانی کمانڈر تھے جنہوں نے مدینہ منورہ کا محاصرہ (1916-1919) برداشت کیا اور آخری دم تک عثمانی خلافت کا دفاع کیا۔
امیر سعود نے شریف حسین بن علی اور ان کے برطانوی اتحادیوں کے خلاف جنگ لڑی، جو عرب بغاوت (1916-1918) کے ذریعے خلافت عثمانیہ کے خلاف برسرپیکار تھے۔ ان کی فوج نے نجد اور حجاز کے مختلف مقامات پر شریف حسین کے حامیوں کو پسپا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
حائل کی جنگیں اور عثمانی سلطنت کے لیے قربانی
1918 میں، عثمانیوں کی کمزوری اور پہلی جنگ عظیم میں ان کی شکست کے بعد، نجد میں آل سعود (جو بعد میں سعودی عرب کے حکمران بنے) اور آل رشید کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی۔ امیر سعود نے آل سعود کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کی، مگر 1920 میں انہیں اپنے ہی چچازاد نے زہر دے کر قتل کردیا۔
ان کی شہادت کے بعد جبل شمر پر آل سعود نے قبضہ کر لیا اور 1921 میں مکمل طور پر آل رشید کی حکومت ختم ہوگئی۔ یہ واقعہ سعودی عرب کے قیام اور عثمانی سلطنت کے زوال کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
تصویر کی تاریخی اہمیت
یہ نایاب تصویر امیر سعود بن عبدالرشید کو ایک عثمانی فوجی افسر (شاید فخرالدین پاشا یا ان کے کسی قریبی ساتھی) کے ساتھ دکھاتی ہے۔ یہ تصویر اس دور کی یادگار ہے جب عرب قبائل عثمانی خلافت کے دفاع میں مصروف تھے اور عرب بغاوت نے خطے کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔

ليست هناك تعليقات
Hi