Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

دو انسان، ایک سفر — اس تاریخی تصویر کی اصل حقیقت

  دو انسان، ایک سفر — اس تاریخی تصویر کی اصل حقیقت یہ تصویر ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اسے 1889ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے شامی علاقے میں کھ...

 



دو انسان، ایک سفر — اس تاریخی تصویر کی اصل حقیقت


یہ تصویر ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اسے 1889ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے شامی علاقے میں کھینچا گیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ میں ان دونوں افراد کے نام محفوظ نہیں، صرف اتنا درج ہے کہ ایک شخص نابینا تھا جبکہ دوسرا شدید جسمانی معذوری کے باعث چل نہیں سکتا تھا۔


تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ وہ کہاں جا رہے تھے، کیسے ملے تھے، بھائی تھے، دوست تھے یا محض سفر کے ساتھی۔ مگر کیمرے میں محفوظ یہ ایک لمحہ ان کے تعلق کی پوری کہانی بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔


جو شخص چل سکتا تھا، وہ راستہ دیکھ نہیں سکتا تھا۔


اور جو راستہ دیکھ سکتا تھا، وہ خود چل نہیں سکتا تھا۔


چنانچہ ایک نے دوسرے کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔


ایک اس کے قدم بن گیا، اور دوسرا اس کی آنکھیں۔


ذرا تصور کیجیے، تنگ اور مصروف گلیوں سے گزرتے ہوئے ان کا ہر قدم باہمی اعتماد پر قائم ہوگا۔ کندھوں پر بیٹھے شخص کو یقین ہوگا کہ اسے اٹھانے والا تھک کر گرنے نہیں دے گا، اور نابینا شخص کو بھروسا ہوگا کہ اس کا ساتھی اسے دیوار، پتھر، گڑھے اور خطرناک موڑ سے پہلے خبردار کر دے گا۔


بظاہر دونوں کے پاس کچھ نہ کچھ کمی تھی، مگر جب وہ ساتھ ہوئے تو ایک دوسرے کی کمی پوری ہوگئی۔


یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات جو شخص ہمیں اٹھائے ہوئے ہوتا ہے، ہم بھی کسی اور انداز میں اسے سہارا دے رہے ہوتے ہیں۔


انٹرنیٹ پر ان دونوں کے بارے میں ایک جذباتی کہانی مشہور ہوئی کہ ان کے نام محمد اور سمیر تھے، ایک مسلمان اور دوسرا عیسائی تھا، دونوں یتیم تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک کی وفات کے بعد دوسرا صدمے سے زندہ نہ رہ سکا۔ لیکن ان ناموں، مذاہب اور ذاتی حالات کی تصدیق کرنے والا کوئی معتبر تاریخی ثبوت موجود نہیں۔


حقیقت بس اتنی ہے کہ 1889ء میں دو گمنام انسان ایک کیمرے کے سامنے کھڑے ہوئے۔ دنیا ان کے نام، آوازیں اور زندگی کی مکمل کہانی بھول گئی، مگر یہ منظر محفوظ رہ گیا کہ کس طرح ایک انسان نے دوسرے کو اٹھا رکھا تھا۔


اور شاید یہی منظر ہمارے لیے کافی ہے۔


انسان کو ہر مشکل تنہا برداشت کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ کبھی آپ کی طاقت کسی دوسرے کی امید بن جاتی ہے، اور کبھی کسی دوسرے کی صلاحیت آپ کے اندھیرے سفر میں روشنی بن جاتی ہے۔

ليست هناك تعليقات

Hi

ہم سے رابطہ