"قید، بیماری اور خاموشی — ایک پاکستانی مزدور کی الم ناک کہانی" (ایک حقیقی داستان جو دل چیر دیتی ہے) میرا نام جواد اللہ خان ہے، ت...
"قید، بیماری اور خاموشی — ایک پاکستانی مزدور کی الم ناک کہانی"
(ایک حقیقی داستان جو دل چیر دیتی ہے)
میرا نام جواد اللہ خان ہے، تعلق لوئر دیر تیمرگرہ مالاکنڈ ڈویژن، خیبر پختونخوا سے ہے۔ آج میں جو کہانی سنا رہا ہوں، یہ کوئی افسانہ نہیں — یہ میرا جیون ہے، میرا زندگی سے منسلک عذاب ہے۔
میں 9 اگست 2005 کو ملائشیا آیا تھا، امیدوں اور خوابوں کے ساتھ۔ میرے پاس مکمل لیگل ویزہ اور پروفیشنل ورک پرمٹ تھا۔ میں نیلائی 3 میں کام کرتا تھا۔ زندگی معمول پر تھی — پسینہ بہاتا تھا، محنت کرتا تھا، رزقِ حلال کماتا تھا۔ ورک پرمٹ جب ختم ہوا تو میں نے اسے باقاعدہ ری نیو بھی کروایا۔ میں نے کبھی قانون نہیں توڑا، مگر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
وہ دن آج بھی یاد ہے جب اچانک امیگریشن آپریشن ہوا۔ میں الیگل نہیں تھا، مگر مجھے بھی درجنوں دوسرے مزدوروں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ ہم سب کو لینگنگ امیگریشن کیمپ لے جایا گیا — اور وہ دن میری زندگی کا سب سے بھیانک موڑ بن گیا۔
کیمپ میں حالات ایسے تھے کہ زبان ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ گندگی، بھوک، بیماری اور ذلت — سب ایک ساتھ۔
ہمیں ایک ہی پینٹ اور شرٹ میں کئی دن گزارتے پڑے۔ نہ کپڑے بدلنے کی سہولت، نہ صفائی، نہ عزت۔ سب کو ایک ہی جگہ برہنہ حالت میں نہانا پڑتا، سب ایک دوسرے کے سامنے۔ کوئی پرائیویسی نہیں، کوئی انسانیت نہیں۔
اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو بس ایک نامعلوم گولی دے دیتے — نہ ڈاکٹر، نہ علاج۔
اور اگر کوئی ذرا سا بولتا، تو ڈنڈے پڑتے، ٹھوکریں پڑتیں، لاتیں پڑتیں۔
مجھے ایک دن جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے بتایا کہ میرا ورک پرمٹ بلکل درست ہے۔ لیکن میری ایک نہ سنی گئی۔ مجھے چار مہینے کی قید کی سزا سنا دی گئی اور پنجارا کاجنگ جیل منتقل کر دیا گیا۔
جیل کی دنیا جہنم سے کم نہیں تھی۔ وہاں قیدیوں کے بلاکس الگ الگ تھے۔ شروع کے دنوں میں جس بلاک میں رکھا گیا، وہاں تو انسان صرف سانس لیتا تھا، جیتا نہیں تھا۔
پانی دن میں چند منٹ کے لیے ملتا۔ سورج کی روشنی دیکھنے کی اجازت نہیں۔ بدن پر جُوں، خارش، پسینہ اور زخم۔
وقت کے ساتھ مجھے ایک عجیب بیماری لگ گئی۔ جسم بھر میں لال دانے نکل آئے، چہرہ، ہاتھ، بازو — حتیٰ کہ پورا بدن زخموں سے بھر گیا۔
جب بخار نے گھیر لیا تو انہوں نے مجھے ایک الگ حصے میں بھیج دیا۔ وہاں ننگا کر کے چونے جیسا سفید مادہ جسم پر مل دیتے۔ وہ جلن اور خارش ایسی تھی کہ انسان چاہے کہ وہ زندہ ہی نہ رہے۔
لوگ مجھ سے نفرت سے دور رہتے — جیسے میں کوئی جراثیم ہوں، انسان نہیں۔
گنتی کے وقت سب کو ایک ہی لائن میں انڈر ویئر میں بٹھایا جاتا۔ میرے جسم میں اتنی طاقت نہیں بچی تھی کہ میں سیدھا بیٹھ سکوں۔
ہر دن ایک نئی اذیت، ہر رات موت کی دعا۔
چار مہینے کی قید جیسے چار صدیوں میں بدل گئے۔
آخر کار، سزا ختم ہوئی تو ہمیں سیمینہ ڈپو منتقل کر دیا گیا۔ وہاں چند دن کے بعد ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
میرے وہ سارے پیسے — پچاس سے ساٹھ ہزار رِنگٹ — ضائع ہو گئے۔ خواب ٹوٹ گئے، عزت چھن گئی، مگر جان بچ گئی۔
میں پاکستان واپس آیا تو زندگی بدل چکی تھی۔ جسم کمزور، دل زخمی، مگر روح زندہ تھی۔
میں نے پھر کبھی ملائشیا کا رُخ نہیں کیا۔ قسمت نے مجھے ساؤتھ افریقہ پہنچا دیا۔
وہاں لوگوں کی اکثریت غیر مسلم ہے، مگر وہ انسان ہیں۔ وہاں کسی نے میرا مذہب نہیں دیکھا، سب کے ساتھ اچھا وقت گزرا۔
کم از کم وہاں کسی نے مجھ پر تشدد نہیں کیا، کسی نے مجھے ذلیل نہیں کیا۔
آج جب یہ سب یاد کرتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ میں خود سے پوچھتا ہوں — کیا یہ سب میں نے روزی روٹی کے لیے سہا تھا؟
کیا میرا جرم صرف یہ تھا کہ میں ایک غریب پاکستانی مزدور تھا؟
یہ کہانی صرف میری نہیں — ہزاروں پردیسیوں کی ہے جو عزت کی تلاش میں اپنے بدن، اپنی روح، اور اپنے خواب قربان کر دیتے ہیں۔
#ImmigrationCamp
#MalaysiaDetention
#MigrantStories
#UnheardVoices
#naveedeseher
#JusticeForWorkers
#ExpatsInTrouble
#LifeInDetention
#HumanRightsAbuse
#DeportedButNotDefeated
#MalaysianImmigration
#TrueStory
#VoiceOfTheVoiceless

ليست هناك تعليقات
Hi