Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

سوات کے عظیم شاعر مرحوم عبدالرحیم روغانی بابا

  روغانے بابا (اصلی والا) اور روغانی بابا راشہ چی سومرہ درنہ کیگی ترے خوندونہ واخلہ مدام  بہ  نہ وی دا ښارونه  بازارونه ګورے دہ سیکنڈئ ستنے ...

 



روغانے بابا (اصلی والا) اور روغانی بابا

راشہ چی سومرہ درنہ کیگی ترے خوندونہ واخلہ

مدام  بہ  نہ وی دا ښارونه  بازارونه ګورے


دہ سیکنڈئ ستنے ٹک ٹک وڑوکے سیز مہ گنڑہ

دہ  ژوند  پہ  ونہ  دی دہ تبر ګزارونہ ګورے


یہ ایک نہایت اہم اور فکری نکتہ ہے کہ سوات کے عظیم شاعر مرحوم عبدالرحیم روغانی بابا کو اکثر لوگ روغنی صاحب  جو کہ حیات ہیں کے ساتھ خلط ملط کر بیٹھتے ہیں۔ یہ مغالطہ عموماً لاعلمی یا عدم توجہ کے باعث جنم لیتا ہے۔ بعض افراد غلطی سے مرحوم عبدالرحیم روغانی بابا کے اشعار، افکار اور فکری حوالہ جات کو روغنی صاحب سے منسوب کر دیتے ہیں، جو یقیناً ایک سنگین ادبی اور تاریخی غلطی ہے۔محض ناموں کی مشابہت نے ایک عجیب صورتِ حال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں عبدالرحیم روغانی بابا جیسے جلیل القدر شاعر کی ادبی وراثت اور فکری شناخت آہستہ آہستہ دھندلا رہی ہے۔ یہ وہ شاعر تھے جن کے الفاظ و خیال وادیِ سوات کی فضا میں خوشبو بن کر گھل گئے، مگر افسوس کہ زمانے کی بے اعتنائی نے ان کے اصل نام اور مقام پر گرد ڈال دی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان دونوں شخصیات کے درمیان علمی و ادبی امتیاز کو واضح طور پر تسلیم کریں — تاکہ عبدالرحیم روغانی بابا کی شاعری اپنی اصل تابناکی کے ساتھ زندہ رہے۔ ادبی لحاظ سے یوں کہا جا سکتا ہے کہ “ناموں کا مغالطہ وقت کی ناقدری ہے اور ناقدری اُس روشنی کا زوال ہے جو لفظوں سے جگمگاتی تھی۔”

پشتو اشعار کا قطعہ جو آغاز میں لکھا گیا ہے یہ جرمنی میں واقع تاریخی میونخ یونیورسٹی کے مین گیٹ (دروازوں) پر لکھا گیا ہے جو نہ صرف عبدالرحیم روغانی بابا کے لئے اعزاز کی بات تھی بلکہ آج بھی ہم سب پاکستانیوں کے لئے بڑے فخر کی بات ہے کہ پشتو زبان کے عظیم شاعر کے کلام کا قطعہ ایک ایسے درسگاہ کے دروازے پر کندہ ہے جہاں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں اور ہزاروں طلبا اس جامع میں زیر تعلیم ہیں۔ ان اشعار کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے تاکہ دیگر زبانوں کے لوگ بھی اشعار کے معنی سے باخبر ہوسکے۔



ليست هناك تعليقات

Hi

ہم سے رابطہ