Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

تحریر: لطیف الرحمٰن

  معاہدۂ گندمک — افغان غیرت کی نیلامی اور غلامی کا دن تحریر: لطیف الرحمٰن پشاور، 29 اکتوبر، 2025 تاریخ کے صفحات میں کچھ معاہدے ایسے درج ہیں ...

 



معاہدۂ گندمک — افغان غیرت کی نیلامی اور غلامی کا دن

تحریر: لطیف الرحمٰن

پشاور، 29 اکتوبر، 2025

تاریخ کے صفحات میں کچھ معاہدے ایسے درج ہیں جو محض سفارتی دستاویزات نہیں، بلکہ قوموں کی غیرت، ان کی مجبوری اور ان کے زخموں کے گواہ بن جاتے ہیں۔ معاہدۂ گندمک بھی انہی المیوں میں سے ایک ہے—ایک ایسا باب جس نے افغان تاریخ کے چہرے پر محکومی کا داغ ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔


انیسویں صدی کا اختتامی دور وسطی ایشیا کی سیاست کے لیے کسی بھٹی سے کم نہ تھا۔ روس اور برطانیہ کے مابین طاقت کی سرد جنگ، جسے دنیا نے "گریٹ گیم" کے نام سے یاد رکھا، افغانستان کو اس کے بیچوں بیچ لے آئی۔ برطانیہ کو خطرہ تھا کہ روس، افغانستان کے راستے ہندوستان پر قدم جما سکتا ہے، اور یہی وہ خوف تھا جس نے ۱۸۷۸ء میں دوسری افغان جنگ کو جنم دیا۔


جب امیر شیر علی خان نے کابل میں برطانوی مشن کو داخلے سے روکا اور روسی نمائندوں کا خیر مقدم کیا، تو انگریز سرکار نے اپنی توپوں کا رخ کابل کی طرف موڑ دیا۔ افغان سپاہ نے مزاحمت کی، مگر قوتِ دشمن زیادہ تھی۔ دورانِ جنگ شیر علی خان وفات پا گئے، اور اقتدار اُن کے بیٹے امیر یعقوب خان کے ہاتھ آیا—ایک ایسا اقتدار جو کمزوری کے سہارے اور مجبوری کے بوجھ پر قائم ہوا۔


۲۶ مئی ۱۸۷۹ء کو جلال آباد کے قریب واقع گاؤں گندمک میں امیر یعقوب خان نے برطانوی نمائندے سر لوئیس کیونری کے ساتھ وہ معاہدہ کیا جس نے افغان خودداری کو زمین بوس کر دیا۔ روایت ہے کہ امیر یعقوب نے اپنی جان بخشی کے بدلے اپنی زمینیں گروی رکھ دیں۔ اُس نے انگریز کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا:

"میرے مرد لے لو، میری عورتیں لے لو، میری زمینیں لے لو، مگر میری جان بخش دو۔"


انگریز نے اس بے بسی کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ خیبر پاس، کرّم درّہ، پیشین اور سِبی جیسے اہم علاقے برطانوی ہند کے قبضے میں چلے گئے، جبکہ اس کے بدلے امیر کو سالانہ چھ لاکھ روپے وظیفے کا لالچ دیا گیا۔ یہی وہ دن تھا جب افغان تاریخ میں غیرت کی جگہ مجبوری نے لے لی اور آزادی کے دیے بجھنے لگے۔


اس معاہدے کے تحت کابل میں ایک برطانوی نمائندہ تعینات کیا جانا بھی شامل تھا۔ مگر افغان عوام نے اسے اپنی توہین سمجھا، اور یہی غصہ بعد ازاں بغاوت میں بدل گیا۔ کیپٹن کیونری سمیت کئی برطانوی افسر مارے گئے، اور یوں جنگ کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھی۔


چند برس بعد، امیر عبدالرحمن خان کے دور میں وہ تمام وعدے پورے کیے گئے جن کی بنیاد گندمک میں رکھی گئی تھی۔ افغانستان نے اپنی خارجہ پالیسی برطانوی مفادات کے تابع کر دی۔ وہ علاقے جو ایک بار انگریزوں کو دے دیے گئے، کبھی واپس نہ مل سکے۔ یہی پس منظر بعد میں ڈیورنڈ لائن کے معاہدے کے لیے راہ ہموار کرتا گیا—ایک ایسی لکیر جو آج تک خطے کے تقدیرنامے پر کھنچی ہوئی ہے جسے ہم بین الاقوامی سرحد کہتے ہیں افغانستان اسے جو بھی نام دے مگر وہ گندمک کے بے شرمی کا معاہدہ سامنے رکھ کر اپنے بے خبر عوام کو آگاہ ضرور کرے۔


المیہ یہ ہے کہ آج بھی افغانستان کے بعض حلقے "لر او بر پختانہ یو دی" کا نعرہ لگا کر وحدت کی بات کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی کے آبا و اجداد نے پختونوں کی غیرت کو انگریز کے چند سونے کے سکّوں پر بیچ دیا تھا۔ وہی قوم جو آج پاکستان کو غلامی کے طعنے دیتی ہے، درحقیقت خود انگریز کے دربار میں اپنی تقدیر بیچ چکی تھی جبکہ پاکستان نے آزادی کے جنگ کے لئے 50 لاکھ عوام کی شہادت کا نذرانہ دیا تھا جس سے دنیائے عالم بخوبی واقف ہے۔


معاہدۂ گندمک صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں، بلکہ ایک تاریخی آئینہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کی قیمت ہمیشہ قربانی سے ادا کی جاتی ہے۔ یہ معاہدہ طاقت کے زعم میں کیے گئے فیصلوں کی وہ علامت ہے جو بتاتا ہے کہ جبر کی بنیاد پر قائم معاہدے کبھی دیرپا نہیں ہوتے۔


گندمک کی مٹی آج بھی افغان قوم سے سوال کرتی ہے:


کیا چند اشرفیوں کے بدلے تم نے اپنی غیرت بیچ دی؟ کیا تم نے اپنے باپ دادا کی بہادری کو زنجیروں میں جکڑ دیا؟


وقت کی گردش نے بہت کچھ بدل دیا، مگر گندمک اب بھی افغان تاریخ کے ضمیر پر ایک ایسا داغ ہے جسے نہ صدیوں کی گرد مٹا سکی، نہ نسلوں کا فاصلہ۔ یہ معاہدہ اس بات کا اعلان ہے کہ غلامی کبھی مقدر نہیں ہوتی — اسے ہمیشہ کمزوری اور مفاد کے سوداگروں نے پیدا کیا ہے۔


بہت سے افغان دانشور باہر سے تو غیرت کے راگ الاپتے آپ کو بہت سے نظر آئینگے ان کو چاہیئے کہ لندن لائبریری کے ایشیائی سیکشن میں گندمگ معاہدے کی پوری فائل کو بخوبی ایک بار پڑھ لیں کہ آپ کے آباواجداد نے موت کی ڈر سے کتنے پختونوں کو سودا کیا تھا۔  آج الحمداللہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام فخریہ طور پر پاکستان کا حصہ ہیں۔

لطیف الرحمان

پشاور، 29 اکتوبر، 2025


Stay Blessed and Connected via following Latif Ur Rehman


#LongLivePakistan

#LongLivePakistanArmy

#PakistanZindabad

#Pakistan

Pakistan Army

Pakistan Air Force

Pakistan Navy

#Afghanistan

ليست هناك تعليقات

Hi

ہم سے رابطہ