پاکستان کے عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر نے اپنا آخری ون ڈے میچ 2 نومبر 1993 کو سری لنکا کے خلاف شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم** میں کھیلا۔ یہ مقابلہ پیپس...
پاکستان کے عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر نے اپنا آخری ون ڈے میچ 2 نومبر 1993 کو سری لنکا کے خلاف شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم** میں کھیلا۔ یہ مقابلہ پیپسی چیمپئنز ٹرافی کے سلسلے میں ہوا، جس میں پاکستان نے ایک سنسنی خیز معرکے کے بعد دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 270 رنز بنائے۔ روشن مہاناما نے 69، ارونا راناٹنگا نے 51، اور ہشم تلکرتنے نے 43 رنز کی نمایاں اننگز کھیلیں۔ پاکستان کی جانب سے وقار یونس اور مشتاق احمد نے دو، جب کہ وسیم اکرم اور عطاءالرحمن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ سلیم ملک نے عمدہ 90 رنز کی فیصلہ کن اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح دلائی، جبکہ انضمام الحق نے 66 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ یوں پاکستان نے 49.4 اوورز میں 271 رنز مکمل کر کے میچ اپنے نام کر لیا۔
اس میچ میں عبدالقادر نے اپنی آخری بار پاکستان کے لیے اسپن کا جادو دکھایا۔ انہوں نے 7.2 اوورز میں 35 رنز دیے مگر کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ تاہم ان کی موجودگی خود ایک علامت تھی — ایک ایسے اسپنر کی جو اپنے وقت میں گوگلی، فلپر، اور کلائی اسپن کے جادو سے دنیا کے بڑے بلے بازوں کو بے بس کر دیتا تھا۔
1977 سے 1993 تک پھیلے اپنے ون ڈے کیریئر میں عبدالقادر نے 104 میچز میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ نہ صرف ایک عظیم بالر تھے بلکہ پاکستانی اسپن بولنگ کے احیاء کے معمار بھی، جنہوں نے مشتاق احمد، دانش کنیریا اور یاسر شاہ جیسے اسپنرز کے لیے راہ ہموار کی۔ ان کا آخری میچ اعداد و شمار میں شاید سادہ تھا، مگر ان کی میراث ہمیشہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا ایک سنہرا باب رہے گی۔
#cricket #Pakistan #AbdulQadir

ليست هناك تعليقات
Hi