حالیہ امن مذاکرات کے بارے میں اورسیز پاکستانی کیا سوچتے ہیں۔ تحریر : فیروز افریدی دیارِ غیر میں مقیم ہم پاکستانیوں کا جسم بھلے ہی غیر م...
حالیہ امن مذاکرات کے بارے میں اورسیز پاکستانی کیا سوچتے ہیں۔
تحریر : فیروز افریدی
دیارِ غیر میں مقیم ہم پاکستانیوں کا جسم بھلے ہی غیر ملکی زمین پر ہو، مگر دل ہمیشہ پاکستان کے حالات کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ حالیہ امن مذاکرات کی خبریں جب ہم تک پہنچتی ہیں، تو جہاں ایک مدھم سی امید جاگتی ہے، وہاں کئی ایسے سوالات اور پریشانیاں بھی جنم لیتی ہیں جو ہماری راتوں کی نیند اڑا دیتی ہیں۔
ایک اورسیز پاکستانی کے لیے وطن صرف ایک نقشہ نہیں، بلکہ اس کے پیاروں کا مسکن ہے۔ حالیہ برسوں میں بدامنی کی جو لہر دوبارہ سر اٹھاتی نظر آئی ہے، اس نے ہمیں شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جب ہم سنتے ہیں کہ امن کے لیے میز سجائی جا رہی ہے، تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ کیا واقعی میرے وطن کی مٹی اب مزید خون مانگنا بند کر دے گی؟
ہماری سب سے بڑی پریشانی اپنے خاندانوں کی حفاظت ہے۔ اورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بوڑھے والدین اور بچوں کو پیچھے چھوڑ کر یہاں محنت مزدوری کر رہی ہے۔ ملک میں جاری بے یقینی کی وجہ سے "آمد و رفت" کے مسائل سنگین ہو چکے ہیں۔ فلائٹ آپریشنز کے مسائل ہوں یا ملک کے اندر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنے کا خوف، اب اپنے ہی گھر جانے کے لیے ہمیں سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ پہلے ہم ہر سال چھٹی کا انتظار کرتے تھے، اب سکیورٹی خدشات اور غیر یقینی صورتحال دیکھ کر ہم اپنے پروگرام منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پھر معاشی مشکلات کا ایک ایسا شکنجہ ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے اور ان کی عدم دستیابی نے نہ صرف ملک کے اندر زندگی مفلوج کر دی ہے بلکہ اورسیز میں کام۔کرنے والوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ہم یہاں سے جو خون پسینے کی کمائی بھیجتے ہیں، وہ اب صرف مہنگے پیٹرول اور گیس اور بجلی کے بلوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ گھر کے کچن کا بجٹ سنبھالنا اب ایک ناممکن مشن بن چکا ہے۔
جنگ اور بدامنی کے سب سے بھیانک اثرات ہماری نسلِ نو پر پڑ رہے ہیں۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے بچے وہ معصوم ذہن ہیں جنہیں کتابوں اور کھیلوں کے میدانوں میں ہونا چاہیے، مگر وہ سائرن کی آوازوں اور خوف کے سائے میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش اور ذہنی تناؤ نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا ہے۔ جب ایک طالب علم اپنے مستقبل کو تاریک دیکھتا ہے، تو وہ تعلیم سے بیزار ہو جاتا ہے۔ ہم اورسیز میں بیٹھ کر یہ سوچ کر تڑپ اٹھتے ہیں کہ کیا ہمارے بچے ایک پرامن اور روشن پاکستان میں تعلیم مکمل کر پائیں گے یا وہ بھی اسی جنگی جنون کا ایندھن بن جائیں گے؟
امن مذاکرات صرف کاغذوں پر دستخط کا نام نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا ثمر عام آدمی کی زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پیٹرول سستا ہو تاکہ کسان کا ٹریکٹر چلے، گیس میسر ہو تاکہ گھروں کے چولہے جلیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے تعلیمی ادارے خوف سے پاک ہوں۔
امن اب ہماری ضرورت نہیں، ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔ ہم اورسیز پاکستانی دعا گو ہیں کہ یہ مذاکرات محض ایک سیاسی مشق ثابت نہ ہوں، بلکہ اس بار سچ مچ کا امن آئے تاکہ ہم بھی فخر سے اور بے خوف ہو کر اپنے پیاروں کے پاس لوٹ سکیں۔

کوئی تبصرے نہیں
Hi