کاکڑ صاحب کو کافی جواب دینے ہوں گیں۔ میڈیا کو نالائق کہنے سے کام نہی چلے گا۔ ان کے بیانات میں کافی تضاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبوں کا ا...
کاکڑ صاحب کو کافی جواب دینے ہوں گیں۔ میڈیا کو نالائق کہنے سے کام نہی چلے گا۔ ان کے بیانات میں کافی تضاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبوں کا الزام نہی دیتے یعنی برادر نقوی کو مگر ابہوں نے انہی کو مورد الزام ٹھرایا کہ انہوں نے غلط اندازے دیے تھے جس کی بنا پر انہوں نے گندم کی درامد کی اجازت دی۔ پھر اسحاق ڈار نے ان کے بیان کو جھٹلایا ہے کہ انہوں نے اس کو روکا تھا کیونکہ یہ غلط تھا۔ اصل انکشاف ہماری سٹوری ہے کہ سرکاری تجویز تھی کہ اگر گندم باہر سے منگوانی ہی ہے تو اپنے کسان کو بچانے کے لیے اس ہر پچاس فیصد روگیولیٹوری ٹیکس ٹھوکیں۔ اگر وہ ٹیکس ہوتا تو کسی منافع خور نے کوئ درامد نہی کرنی تھی۔ مگر اس ٹیکس کو ہٹا دیا گیا۔ کس نے کیا۔ کیوں۔ اصل کہانی یہی ہے۔ کہانی تو اب شروع ہوئ ہے۔ سب اک دوسرے پر ڈال رہے ہیں مگر چھہ کروڑ کسان جس سے لاگت سے بھی کم پیسے پر گندم ہتھیا لی گئ ہے بد دعا دے رہا ہے۔ خدا کا خوف کریں اور اس لی تفتیش تو کروائیں مگر کسانوں کے زخموں پر مرحم رکھیں۔ کسان کارڈ سے کام نہی چلے گا۔ ان کو اگر منافع نہی دے سکتے تو کم از کم لاگت اور اجرت ہی دے دیں۔ قرضے کی بھیک نہی اپنی اجرت چاہیے۔ اور کون کرے گا یہ تفتیش؟ وہی لوگ جن پر الزام ہے؟؟

کوئی تبصرے نہیں
Hi