غزل ہم نے سمجھا تھا زندگی ان کو موت سنتے یہ پڑھ گئی ان کو ان کو چھونے سے جل ہی جائو گے آپ س...
غزل
ہم نے سمجھا تھا زندگی ان کو
موت سنتے یہ پڑھ گئی ان کو
ان کو چھونے سے جل ہی جائو گے
آپ سمجھیں نا برف کی ان کو
ہم پہ کرتے ہیں مہربانی بھی
کام پڑھتا ھے جب کبھی ان کو
گر وہ پیتے تو پھر کیا ہوتا
میرے پینے سے چڑھ گئی ان کو
کوئی کہتا ھے جان سے پیارا
کوئی کہتا ھے مطلبی ان کو
منہ نا دکھلائو گے زمانے کو
آہ عاشق کی جو پڑی ان کو
میل دل میں ھے اب تلک انکے
ہم نے چاہا تھا دو گھری ان کو
ہم کو بھائی کہنے لگتے ہیں
ہم پہ آتی ھے دل لگی ان کو
ان سے بڑھ کر بھی ہیں کئی پیارے
کوئی سمجھیے نا آخری ان کو
یہ مزمل ھے تیرا دیوانہ
چیر دیتی ھے یہ چھری ان کو
شاعر : مزمل احمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں
Hi