غزل چاروں طرف ہے ہجر کا میلہ سجا ہوا اور پوچھتے ہیں وہ کہ معوّذ کو کیا ہوا اک دن گلے لگانے وہ آیا تھا خواب میں کھویا ہوا، ڈرا ہوا، آدھا م...
غزل
چاروں طرف ہے ہجر کا میلہ سجا ہوا
اور پوچھتے ہیں وہ کہ معوّذ کو کیا ہوا
اک دن گلے لگانے وہ آیا تھا خواب میں
کھویا ہوا، ڈرا ہوا، آدھا مرا ہوا
اپنی ہنسی بھی چومنے آتی نہیں مجھے
یوں ہوں کسی کے سایۂ غم سے اٹا ہوا
گرنے لگا فلک تو دعا سٹپٹا گئی!
کل شب مرے دماغ میں وہ سانحہ ہوا
اب یہ سوال آپ ہی کھڑکی سے پوچھیے
گزرا تھا کون دل کی گلی سے ڈرا ہوا؟
مٹی تراش کر کوئی پھونکا گیا تھا اِسم
گویا ہے آدمی بھی خدا کا گھڑا ہوا
لگتا نہیں کہ اب وہ کوئی گل کھلا سکے
اس شاخ میں ہے رنگ خزاں کا بھرا ہوا
پابندیاں سخن پہ لگائی ہیں کس لیے
اب آئینے میں کون ہے الٹا کھڑا ہوا
معوذ حسن

کوئی تبصرے نہیں
Hi