دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا اور ہم نے شاعری کے سوا ، کچھ نہیں کیا غربت بھی اپنے پاس ہے اور بھوک ننگ بھی کیسے کہیں کہ اس نے عطا کچھ ...
دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا
اور ہم نے شاعری کے سوا ، کچھ نہیں کیا
غربت بھی اپنے پاس ہے اور بھوک ننگ بھی
کیسے کہیں کہ اس نے عطا کچھ نہیں کیا
چپ چاپ کھر کے صحن میں فاقے بچھا دیے
روزی رساں سے ہم نے گلہ کچھ نہیں کیا
غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک
خوشحالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا
دنیا کو جانتے تھے کہ دل کی غریب تھی
اِس سے طلب سخن کا صلہ کچھ نہیں کیا
بستی میں خاک اڑائی ، نہ صحرا میں ہم گئے
کچھ دن سے ہم نے خَلقِ خدا کچھ نہیں کیا
مانگی نہیں کسی سے بھی ہمدردیوں کی بھیک
ساجد کبھی خلافِ انا کچھ نہیں کیا۔
اقبال ساجد

کوئی تبصرے نہیں
Hi