Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

کا ورلڈکپ وہ پہلا ٹورنامنٹ ہے جو کسی حد تک یاد ہے

  1987 کا ورلڈکپ وہ پہلا ٹورنامنٹ ہے جو کسی حد تک یاد ہے- میچز سے زیادہ ٹورنامنٹ سے پہلے پی ٹی وی پر میچز کا آنے والا شیڈول یاد ہے جسے دیکھ ...

 


1987 کا ورلڈکپ وہ پہلا ٹورنامنٹ ہے جو کسی حد تک یاد ہے- میچز سے زیادہ ٹورنامنٹ سے پہلے پی ٹی وی پر میچز کا آنے والا شیڈول یاد ہے جسے دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا تھا کہ چار نومبر کو لاہور (پہلا سیمی فائنل) میں میچ کھیل کر پانچ نومبر کو بمبئی (دوسرا سیمی فائنل) کیسے کھیل لیں گے- اور پھر پی ٹی وی پر چلنے والا وہ میوزک، کمبخت نہیں بھولتا


کہتے ہیں کہ اس ورلڈکپ میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں فیورٹ تھیں اور دونوں ہی ٹیموں نے اپنے گروپ کو ٹاپ بھی کیا اور پھر دونوں ہی ٹیموں کو مخالف گروپ کی دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر شکست دے کر فائنل میں پہنچ گئیں- ڈیوڈ بون کے 75 رنز اور مائیک ویلیٹا کے 31 گیندوں پر 45 رنز کے آسٹریلیا کو 253 رنز تک پہنچا دیا تھا لیکن جواب میں انگلینڈ نے بھی تین وکٹوں پر 170 رنز بنا لئے تھے لیکن چوتھی وکٹ گرنے کے بعد ہر گزرتے اوور کے ساتھ آسٹریلیا کی ٹیم میچ پر گرفت مضبوط کرتی گئی- مقابلہ کافی نزدیکی رہا لیکن جب سٹیو وا نے ایلن لیمب کو آؤٹ کر دیا تو پھر فلپ ڈیفریٹس ہی چند ہٹس لگا سکا اور آسٹریلیا نے یہ فائنل سات رنز سے جیت لیا- 


اس فائنل کی ایک خاص بات انگلش کیپٹن مائیک گیٹنگ کا آسٹریلین کیپٹن ایلن بارڈر کو کھیلا گیا ریورس سویپ بھی تھا جس پر وہ وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہو گئے- اس میچ میں امپائرنگ کے فرائض سر انجام دینے والے پاکستانی امپائر محبوب شاہ کے بارے میں بہت بعد میں اخبار وطن میگزین میں یہ بھی پڑھا تھا کہ انہوں نے سیمی فائنل سے پہلے ہی خود کو خواب میں فائنل میں امپائرنگ کرتے دیکھا تھا-

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ