فقیری اور سکندری ہم نے چمکتے ہوئے تاج کو ٹھکرا دیا، ہم نے سنہری محل کی صدا نہ سنی، ایک کٹیا کی چھاؤں میں سکون پایا، جہاں دل کی دھڑکن دعا ب...
فقیری اور سکندری
ہم نے چمکتے ہوئے تاج کو ٹھکرا دیا،
ہم نے سنہری محل کی صدا نہ سنی،
ایک کٹیا کی چھاؤں میں سکون پایا،
جہاں دل کی دھڑکن دعا بن گئی۔
لوگ کہتے ہیں تقدیر تو سکندر تھی،
دنیا کی راہوں پہ جھکنے والے تخت ملتے،
مگر ہم نے فقیری کے جام کو چُنا،
جہاں قطرہ بھی دریا کے برابر تھا۔
ہم کو زر و جواہر نے لبھایا نہیں،
ہم کو قناعت کا غرور راس آیا،
دنیا نے چاہا کہ ہمیں بادشاہ کہے،
ہم نے کہا، "درویش کا نام ہی کافی ہے۔"
راہِ محبت میں جو درد ملا، وہی انعام ہے،
تخت نہ ملا تو کیا ہوا، دل کا مقام ہے،
سکندر جہاں لے کے بھی خالی گیا،
گل آج بھی ذکر سے روشن ہے۔
ؔ

کوئی تبصرے نہیں
Hi