Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

وه عورت جس نے محبت کے لیے مذہب بدلا

  وہ عورت جس نے محبت کے لیے مذہب بدلا… وطن کے لیے زندگی بدل دی… اور تاریخ کے لیے اپنا نام امر کر دیا۔ یہ کہانی ہے شیلا آئیرین پینٹ کی— برطان...

 



وہ عورت جس نے محبت کے لیے مذہب بدلا…

وطن کے لیے زندگی بدل دی…

اور تاریخ کے لیے اپنا نام امر کر دیا۔


یہ کہانی ہے شیلا آئیرین پینٹ کی—

برطانوی انڈین آرمی کے میجر جنرل ہیکٹر پینٹ کی بیٹی۔

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، باوقار، نڈر اور باعزم لڑکی…

جو 1927 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرتی ہے۔


گھر میں مذہبی تبدیلی پہلے ہی ہو چکی تھی،

ماں ایک ہندو برہمن خاندان سے تھیں مگر عیسائیت قبول کر چکی تھیں۔

شیلا بھی علم و فہم میں پروان چڑھی۔

پہلے کلکتہ کے گوکھیلے میموریل اسکول میں پڑھایا،

پھر دہلی کے اندرپستھا کالیج میں معاشیات کی پروفیسر لگیں۔


اور پھر 1933 میں ایک ملاقات نے زندگی بدل دی۔

وہ ملاقات تھی نوابزادیوں کے محبوب اور پاکستان کے مستقبل قائد

لیاقت علی خان سے۔


محبت ہوئی…

احترام بڑھا…

اور شیلا نے اسلام قبول کر کے بیگم رعنا لیاقت علی خان بننے کا فیصلہ کر لیا۔


یہ محبت صرف گھر تک نہ تھی—

یہ محبت ایک قوم اور ایک مستقبل سے تھی۔


پاکستان کی ماں — خواتین کی آواز


پاکستان بنا تو خواتین کی نجات کے لیے آواز اُٹھی۔

اگر آج ہماری نوجوان بیٹیاں یونیورسٹی جاتی ہیں…

سیاست، فوج، ڈپلومیسی، کابینہ، اور میڈیا میں کردار ادا کرتی ہیں…

تو اس میں بیگم رعنا کا خون شامل ہے۔


انہوں نے خواتین کی پہلی آرگنائزیشن APWA قائم کی،

جس نے بیوہ، یتیم، غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اُٹھایا۔


یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے ملک کی پہلی فوجی نرسنگ سروس بنوائی،

پاکستان میں یومِ خواتین کا آغاز کیا،

اور بتایا کہ ملک عورتوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔


دنیا نے تسلیم کیا — پاکستان کی بیٹی


وہ پاکستان کی پہلی سفیر خاتون تھیں۔

نیڈرلینڈز، اٹلی، تیونس — ہر جگہ پاکستان کا پرچم فخر سے بلند کیا۔

دنیا حیران تھی کہ نیا ملک ہے، مگر اس کی نمائندہ خواتین میں بھی ہیرو موجود ہے۔


دنیا کے بڑے بڑے ایوارڈ ان کے نام ہوئے،

اقوام متحدہ میں خواتین کے حقوق کی پہچان بنی،

اور پاکستان نے انہیں نشانِ پاکستان سے نوازا۔


وہ سندھ کی پہلی خاتون گورنر بھی بنیں۔

ایک عورت… مگر اکیلی نہیں تھی…

اس کے پیچھے پاکستان تھا۔


لیاقت علی خان شہیدؒ کی رفیقۂ حیات— آخری سانس تک جدوجہد


جب راولپنڈی کے کمپنی باغ میں گولی چلی

تو رعنا لیاقت صرف ایک بیوی نہ رہیں—

وہ ایک پوری قوم کا حوصلہ بن گئیں۔


شوہر شہید کیا گیا، مگر انہوں نے ہار نہ مانی۔

کسی شکوے کے بجائے خدمت کو اپنا فرض بنایا۔

وہ آخری سانس تک پاکستان کے لیے لڑتی رہیں۔

اور آخری پیغام…


یہ وہ خاتون تھیں جنہوں نے کہا تھا:


> “پاکستان کو عورتوں کی ضرورت ہے۔

قومیں تبھی بنتی ہیں جب عورتیں جاگ جائیں۔”


آج جب کوئی کہتا ہے کہ عورت گھر تک محدود ہو —

تو تاریخ جواب دیتی ہے:

بیگم رعنا لیاقت علی خانؒ جیسی خواتین نے پاکستان کا گھر بھی بنایا

اور پاکستان کا مستقبل بھی۔

سلام بیگم رعنا!


آپ صرف لیاقت علی خان کی اہلیہ نہیں—

آپ پاکستان کی روح ہیں۔

قوم آپ کے احسان کو کبھی نہیں بھولے گی۔


؟

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ