Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

5 مئی محسن نقوی کا یوم پیدائش

  5 مئی محسن نقوی کا یوم پیدائش  اردو شاعری میں نئی جہتیں متعارف کرانے والے منفرد شاعر. مختصر تعارف    ۵، مئی، ۱۹۴۷ء کو ڈیرہ غازی خان میں پی...

 


5 مئی محسن نقوی کا یوم پیدائش 


اردو شاعری میں نئی جہتیں متعارف کرانے والے منفرد شاعر.


مختصر تعارف 

 

۵، مئی، ۱۹۴۷ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہونے والے محسن نقوی کا پیدائشی نام غلام عباس تھا تاہم بعد میں انہوں نے اپنے نام میں اضافہ کر کے غلام عباس محسن نقوی رکھ دیا لیکن عوام انہیں محسن نقوی کے نام سے ہی جانتے ہیں۔ان کے شعری مجموے بند قباء، برگ صحرا، ردائے خواب، ربزہ حرف، عذاب دید، طلوع اشعر، رخت شب اور خیمہ جاں کے نام سے شائع ہوئے۔محسن نقوی کا مذہبی کلام شعری مجموعوں موج ادراک، فرات فکر اور حق ایلیا کے نام سے جبکہ کلیات میراث محسن کے نام سے منظر عام پر آئیں اوران کی شخصیت اور فن پر بھی ایک کتاب‘اس نے کہا آورگی’کے نام سے شائع ہوئی، ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں ۔اردو ادب کے اس روشن ستارے کو ۱۵، جنوری ۱۹۹۶ء کو دہشت گردی کے اندھیرے نگل گئے، مگر ان کی بے مثل شاعری انہیں دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھےگی ۔


محسن نقوی کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت. 


ہم تو مر جائیں گے اے ارضِ وطن پھر بھی تجھے

زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

۔۔۔۔۔۔۔

یہ کسں نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا 

ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

۔۔۔۔۔۔۔

کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو 

شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔

اب تیری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

 زخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو

۔۔۔۔۔۔۔

جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی

 جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا

۔۔۔۔۔۔۔

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا 

کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے 

۔۔۔۔۔۔۔

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا 

اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا 

۔۔۔۔۔۔۔

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے 

ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

۔۔۔۔۔۔۔

اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا 

بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں 

۔۔۔۔۔۔۔

کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے 

شام ڈھل جائے تو محسن تم بھی گھر جایا کرو 

۔۔۔۔۔۔۔

خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن

میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا

۔۔۔۔۔۔۔

اتنی قبریں نہ بناؤ میرے اندر محسن

 میں چراغوں کو جلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ