ریاستِ سوات کا دورِ حکومت اپنے امن، قانون اور قدرتی حسن کے تحفظ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ یہ کہانی اسی سنہرے دور کے ایک ایسے خوبصو...
ریاستِ سوات کا دورِ حکومت اپنے امن، قانون اور قدرتی حسن کے تحفظ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ یہ کہانی اسی سنہرے دور کے ایک ایسے خوبصورت ٹکڑے کی ہے جسے ہم 'فضا گٹ' کے نام سے جانتے ہیں۔ اگر ہم 1960ء کے دہاکے کی ایک نایاب تصویر پر نظر دوڑائیں، تو ہمیں ایک ایسا فضا گٹ نظر آتا ہے جہاں آج کے ٹریفک کے شور اور دھویں کے برعکس، صرف دریاِ سوات کے شفاف پانی کی بہتی ہوئی مدہم آواز گونجتی تھی۔ دریا کے ساتھ بل کھاتی ہوئی یہ سڑک، جو سوات کی ابتدائی پکی سڑکوں میں سے ایک تھی، وادی کے دامن میں کسی لکیر کی طرح مڑتی ہوئی پہاڑوں کے حسن کو دوبالا کرتی تھی۔
اس دور میں، جہاں آج فضا گٹ پارک اور ہوٹل بنے ہوئے ہیں، وہاں گھنے اور سایہ دار درختوں کا ایک بڑا جھنڈ ہوا کرتا تھا۔ مقامی لوگ اس پرسکون جگہ کو 'شہیدہ' کہتے تھے۔ اس نام کے پیچھے ایک دلچسپ حقیقت یہ تھی کہ سوات میں کتنے ہی بڑے سیلاب کیوں نہ آئے ہوں، دریاِ سوات کا بپھرا ہوا پانی کبھی اس مقام کو نہیں ڈبو پاتا تھا۔ یہ 'شہیدہ' کا مقام سواتی ثقافت اور مقامی پکنک کا ایک بڑا مرکز بن چکا تھا۔ مینگورہ اور گردونواح کے لوگ گرمیوں کے دنوں میں اپنی دری (چٹائی) اٹھا کر یہاں آتے، درختوں کے سائے تلے بیٹھتے اور دریا کے ٹھنڈے، شفاف پانی سے لطف اندوز ہوتے۔ اس وقت دریا میں مچھلیاں وافر مقدار میں ہوتی تھیں۔ لوگ یہاں مچھلی کا شکار کرتے اور پھر اسی وقت کناروں پر لکڑیاں جل اکر تازہ مچھلی پکا کر کھاتے۔ وہ سادگی اور سکون کا ایک ایسا دور تھا جس کا تصور آج مشکل معلوم ہوتا ہے۔
دریا کے بالکل سامنے، دوسری طرف 'غؤریجہ' گاؤں آباد ہے۔ اس دور میں غؤریجہ گاؤں کے لوگوں کے لیے دریا عبور کرنا ایک کٹھن اور خطرناک مرحلہ تھا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے غؤریجہ گاؤں کے ایک دور اندیش اور محنتی شخص، جن کا نام 'امیرمحمود' تھا، نے ایک تاریخی قدم اٹھایا۔ امیرمحمود نے دریا پار کرنے کے لیے اپنے گاؤں کی سطح پر ایک 'زانگو' (مکینیکل جھولا یا چیئر لفٹ) لگائی۔ یہ سوات کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی نے اس طرح کی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہو۔ محمود کا یہ زانگو ایک بڑی ایجاد ثابت ہوا جس نے مقامی لوگوں کی زندگی بدل دی، اور یہ زانگو اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ اب بھی وہاں موجود ہے۔
لیکن افسوس، جیسے جیسے وقت بدلا، سوات کا یہ حسن اور فضا گٹ کا یہ تاریخی سکون بھی ہوسِ زر کی نذر ہو گیا۔ آج اگر آپ اسی فضا گٹ کا رخ کریں، تو وہاں کی تصویر یکسر بدل چکی ہے۔ جہاں کبھی 'شہیدہ' کے گھنے درخت تھے اور کھلا آسمان نظر آتا تھا، آج وہاں کنکریٹ کا ایک ہولناک جنگل کھڑا ہے۔ پورا فضا گٹ، دریاِ سوات کے کنارے اور یہاں تک کہ پہاڑوں کے دامن بھی کثیر المنزلہ ہوٹلوں، دکانوں اور رہائشی مکانات نے گھیر لیے ہیں۔
اس بے ہنگم اور بے رحم تعمیرات کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں ماحولیات کے محکمے کا برائے نام ہونا ہے۔ ہمارے ملک میں ماحولیاتی تحفظ اور وائلڈ لائف کے ادارے صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہیں۔ جہاں مرضی ہو گھر بنا لو، جہاں دل چاہے ہوٹل کھڑا کر دو، کوئی قانون پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی قوانین پر عمل درآمد کرانے کی کوئی سیاسی نیت نظر آتی ہے۔ تجارتی فائدے اور بے ہنگم سیاحت کے نام پر منافع خوروں نے دریا کے قدرتی بہاؤ (Riverbeds) اور گرین بیلٹس پر قبضے کر لیے۔
یہ بے لگام تعمیرات نہ صرف ماحول کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ قدرتی آفات کو بھی دعوت دے رہی ہیں، جس کا خمیازہ ہم حالیہ سالوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کی صورت میں بھگت چکے ہیں۔ دریا نے بارہا اپنا راستہ روکنے والوں کو سزا دی، مگر افسوس کہ ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
فضا گٹ کی یہ پرانی تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم نے ترقی کی اندھی دوڑ میں اپنی جنت نظیر وادی کا کتنا بڑا نقصان کیا ہے۔ کاش کہ اب بھی وقت رہتے ہوش کے ناخن لیے جائیں اور سوات کے بچے کھچے قدرتی حسن کو بچانے کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین نافذ کیے جائیں۔

کوئی تبصرے نہیں
Hi