شاہ رخ خان کے والد کو پاکستان کیوں چھوڑنا پڑا؟ بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان کا تعلق پشاور سے تھا۔ ان کی زندگی کا ...
شاہ رخ خان کے والد کو پاکستان کیوں چھوڑنا پڑا؟
بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان کا تعلق پشاور سے تھا۔ ان کی زندگی کا ایک اہم باب تقسیمِ ہند کے بعد سرحدی صوبے میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی سے جڑا ہوا ہے۔
سینئر سیاست دان حاجی غلام احمد بلور اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ 1948 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ خان عبدالقیوم خان کی حکومت نے پشاور اور گردونواح میں خدائی خدمت گار تحریک کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے بعد بابڑہ کے مقام پر پولیس نے خدائی خدمت گاروں کے اجتماع پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جان سے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔
اس واقعے کے بعد تحریک سے تعلق رکھنے والے کارکنوں اور حامیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہوگیا۔ حاجی غلام احمد بلور کے مطابق شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان بھی خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ تھے۔ پولیس انہیں گرفتار کرنے کے لیے بار بار ان کے گھر پر چھاپے مارتی تھی۔ مسلسل خوف، سیاسی دباؤ اور گرفتاری کے خطرے کے باعث انہیں اپنے خاندان کے ساتھ پشاور چھوڑ کر دہلی منتقل ہونا پڑا۔
دہلی میں ان کے دوست محمد یونس پہلے سے موجود تھے، جنہوں نے ابتدائی دنوں میں تاج محمد خان اور ان کے خاندان کی مدد اور دیکھ بھال کی۔ بھارت منتقل ہونے کے باوجود تاج محمد خان نے پشاور میں اپنے پرانے دوستوں اور جاننے والوں سے تعلق ختم نہیں کیا۔ حاجی غلام احمد بلور لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر تاج محمد خان اپنے خاندان کے ساتھ پشاور آئے اور ان کے گھر بھی قیام کیا۔
حاجی غلام احمد بلور کا دعویٰ ہے کہ وہ بچپن میں ان واقعات کے عینی شاہد تھے۔ ان کی روایت کے مطابق تاج محمد خان نے اپنی مرضی سے پشاور نہیں چھوڑا تھا، بلکہ سیاسی انتقام، بار بار کے چھاپوں اور ممکنہ گرفتاری سے تنگ آکر دہلی جانے پر مجبور ہوئے تھے۔
یوں شاہ رخ خان کے خاندان کی کہانی صرف فلمی دنیا، شہرت اور کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ برصغیر کی تقسیم، سیاسی جبر اور ہجرت کے ان زخموں سے بھی جڑی ہوئی ہے جنہوں نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دی تھیں۔

کوئی تبصرے نہیں
Hi