مرحوم راحت اندوری کا نعتیہ کلام اگر نصیب قریبِ درِ نبی ہو جائے مِری حیات مِری عُمر سے بڑی ہو جائے اندھیرے پائوں نہ پھیلا سکیں زمانے میں ...
مرحوم راحت اندوری کا نعتیہ کلام
اگر نصیب قریبِ درِ نبی ہو جائے
مِری حیات مِری عُمر سے بڑی ہو جائے
اندھیرے پائوں نہ پھیلا سکیں زمانے میں
درود پڑھیے کہ ہر سمت روشنی ہو جائے
گزرتا کیسے ہے ایک ایک پل مدینے میں
اگر سنانے پہ آئوں تو اِک صدی ہو جائے
درِ حبیب سے ہر بار واپسی کے وقت
دُعا یہ مانگی کہ اک اور حاضری ہو جائے
بنامِ ساقیِ کوثر، بنامِ ختمِ رُسل
شرابِ عشق جو پی لے وہ جنتی ہو جائے
میں "میم" "ح" لکھوں پھر "میم" اور "دال" لکھوں
خدا کرے کہ یونہی ختم زندگی ہو جائے

کوئی تبصرے نہیں
Hi