Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

کسی کی یاد سے رندوں کی شام نیلم ہے

  کسی کی یاد سے رندوں کی شام نیلم ہے سبو  ہ ے سرخ تو سرکار جام نیلم  ہ ے کسی کے حُسنِ سماعت سے داد لینے کو سخن سبھا کا ھر اک لالہ فام نیلم  ...

 


کسی کی یاد سے رندوں کی شام نیلم ہے
سبو ہے سرخ تو سرکار جام نیلم ہے

کسی کے حُسنِ سماعت سے داد لینے کو
سخن سبھا کا ھر اک لالہ فام نیلم ہے

وہ کیوں زمرّد و الماس پر کرے گا نگاہ
کہ جس حسین کا ادنیٰ غلام نیلم ہے

تُو لاکھ شرم سے یاقوت ہو رہے مِری جاں
مجھے پتا ہے ترا اصل نام نیلم ہے ۔۔ !

ہے مس شدہ کسی انگشتِ حُسنِ زیبا کا
جنابِ من یہ سمجھتے ھیں عام نیلم ہے ؟؟

کسی کی جان پہ بننی ہے یہ غزل سن کر
علی ردیف کا یوں اہتمام ، نیلم ہے

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ