Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

پہلی بار یہ تصویر سرفراز سید نے روزنامہ مشرق کے ادبی ایڈیشن میں چھاپی تھی. تحریر و تحقیق :فضہ چوہدری

  گدھا ریڑھی پر سوار قومی ترانے کے خالق  ابو الاثر حفیظ جالندھری  کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر بہت دن سے حفیظ جالندھری کے آخری ایام کے ناگفتہ ب...

 


گدھا ریڑھی پر سوار قومی ترانے کے خالق  ابو الاثر حفیظ جالندھری  کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر بہت دن سے حفیظ جالندھری کے آخری ایام کے ناگفتہ بہ حالات کی عکاسی کے لیے پیش کی جا رہی ہے 

گویا  قومی ترانے کے خالق آخر عمر میں اتنے بدحال تھے کہ سواری کے لیے گدھا گاڑی پر لفٹ لینا پڑی

درحقیقت حفیظ جالندھری  بہت پریکٹیکل آدمی تھے، عمر کا بیشتر حصہ خوش حال، سرکار دربار کے ہمیشہ قریب رہے۔ شاہنامہ اسلام لکھ  کر شاعرِ اسلام بنے تو کئی نوابوں اور امرأ سے وظائف ملنے لگے۔  دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریزی فوج میں بھرتی کیلئے  پبلسٹی آفیسر بن گئے  اور ”میں تو چھورے کو بھرتی کرا آئی رے“ اور’’ ایتھے پھردے او ننگے پیریں ، اوتھے ملن گے بوٹ ‘‘ جیسے گیت لکھے۔ 

 کچھ عرصے بعد انگریزی میم سے شادی کرکے انگریزوں کے داماد بھی بن گئے۔ پاکستان بنا تو قومی ترانے کےخالق ہونے کا اعزاز مل گیا۔

 یہ تصویر اگست 1981 کی ہے جب وہ ماڈل ٹاؤن ، لاہور میں اپنی کوٹھی کی مرمت ، توسیع یا تزئین کیلئے ریت، بجری  لے کر جارہے تھے۔ ریڑھے والے کو راستہ سمجھانے کی زحمت سے بچنے کیلئے خود اس کے ساتھہ چل پڑے۔

 دسویں جماعت کے ایک طالب علم غلام مرتضی' نے یہ  تصویر کھینچ لی۔

 پہلی بار یہ تصویر سرفراز سید نے روزنامہ  مشرق کے ادبی ایڈیشن میں چھاپی تھی.

 تحریر و تحقیق :فضہ چوہدری

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ