Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

سلسلہ کتاب تعارف کتاب نام ؛ طبقات ناصری مصنف؛ منہاج سراج زمانہ تالیف؛ 1260ء مترجم؛ غلام رسول مہر قسط اول.

  سلسلہ کتاب تعارف کتاب نام ؛ طبقات ناصری مصنف؛ منہاج سراج زمانہ تالیف؛ 1260ء مترجم؛ غلام رسول مہر قسط اول.  طبقات ناصری کتاب کا شمار مسلم ہ...

 


سلسلہ کتاب تعارف

کتاب نام ؛ طبقات ناصری

مصنف؛ منہاج سراج

زمانہ تالیف؛ 1260ء

مترجم؛ غلام رسول مہر

قسط اول. 

طبقات ناصری کتاب کا شمار مسلم ہندوستان کی تاریخ ابتدائی میں ہوتا ہے..

اس کے علاوہ یہ کتاب خراسان و ایران کی تاریخ میں بھی ایک اھم مقام رکھتی ہے..

طبقات ناصری کا شمار ریفرینس بک کے طور پر ہوتا ہے..

ہندوستان کی تاریخ پر کام کرنے والے تقریباً سبھی محقق و لکھاری اس کتاب سے استفادہ ضرور کرتے ہیں کیونکہ یہ مسلمانوں کے ہندوستان میں اولین دور کی تاریخ بیان کرتی ہے.

یہ ایک ضخیم کتاب ہے جو کہ دو جلدوں پر مشتمل ہے..

یہ کتاب ابتدائی بنی آدم سے لیکر 1260 عیسوی تک کی تاریخ بیان کرتی ہے..

اس کتاب میں عرب، ایران، یمن، شام، روم، شمالی افریقہ وغیرہ کے قدیم زمانے کے حکمرانوں کی تاریخ بھی شامل ہے.

اس میں روایتی اسلام تاريخ بیان کرتے ہوئے مصنف کتاب کے پہلے حصہ میں قدیم انبیاء کرام کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک بیان کرتا ہے.

اس کے بعد دوسرے حصے میں خلفائے راشدین سے لیکر بنو امیہ، بنو عباس کے خلفاء کی تاریخ ہلاکو خان کے حملہ اور سقوطِ بغداد تک بیان کرتا ہے.

اس کے بعد کے واقعات چونکہ کتاب کی تصنیف کے بعد ہوئے ہیں پس وہ اس میں شامل نہیں..

یہاں پر عمومی اسلامی تاریخ یعنی عربوں کی تاریخ کا خاتمہ ہوجاتا ہے.

اس کے بعد دوسرے باب میں شاہان عجم یعنی فارس و ایران کے حکمران خاندانوں کی تاریخ پیش دادی حکمرانوں کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے. جو کہ قبل از مسیح کی بات ہے. اس کے بعد کیانیان، اشکانیان، سے ہوتے ہوئے آخری ایرانی حکمران خاندان ساسانی کے بادشاہ یزد جر پر اختتام کرتا ہے جنھیں مشہور قادسیہ کی جنگ میں مسلمانوں نے شکست دیکر ایران کے مجوسی حکمرانوں کا خاتمہ کیا..

اس کے بعد آگے بڑھتے ہوئے یمن و عرب کے حکمرانوں کی بات ہوتی ہے.

یہاں پر یمن کے تباہعہ خاندان پر لکھتا ہے یہ بھی قبل از اسلام کی تاریخ ہے جو طلوع اسلام پر ختم ہوتی ہے..

مصنف نے یہاں پر ہندوستان، چین، روم، مصر، ترکستان اور عراق کے قدیم حکمرانوں کی کوئی تاریخ نہیں کی شاید اس بارے میں مصنف کے پاس معلومات نہ تھیں یا اس کے نزدیک یہ موضوعات کتب سے غیر متعلق تھے. واللہ اعلم..

اس کے بعد مصنف اپنے اصل یعنی خراسان پر آتا ہے.

سیستان کا طاہری خاندان وہ سب سے پہلا خاندان ہے جنھوں نے خراسان میں ایک نیم خود مختار حکومت کی بنیاد رکھی.

طاہریوں کی حکومت موجود افغانستان ایران کے جزوی علاقے پر 821ء سے 873ء تک قائم رہی.

طاہریوں کے خاتمہ کے بعد سیستان کا ایک اور صفاری خاندان حکومت پر براجمان ہوتا ہے.

یہ بھی افغانستان و ایران پر حکومت کرتے ہیں انکا زمانہ 861ء سے 1000ء تک ہے..

طاہریوں اور صفاريانو کے بعد خراسان کے جس مسلم خاندان کو عروج ملتا ہے وہ سامانی خاندان ہے. انھوں نے موجودہ ترکمانستان افغانستان تاجیکستان کے علاقے پر حکومت کی. انکا زمانے 821ء سے لیکر 999ء تک محیط ہے. 

غزنوی سلطنت کا بانی سبکتگین دراصل اسی سامانی سلطنت کا غلام تھا جس نے سامانیوں کے زوال کے بعد غزنی میں 997ء میں خود مختار سلطنت کی بنیاد رکھی.. یہاں پر مصنف حد سے زیادہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اس طویل مدتی حکومت کو انتہائی کم جگہ دیتا ہے. غزنوی سلطنت 1186ء میں غوریوں کے ہاتھوں اپنے اختتام کو پہنچی. 

اس کے بعد وسطیٰ ایشیاء کے عظیم حکمران خاندان سلجوقیوں پر بات کرتا ہے. سلجوقیوں کی مختلف چھوٹی بڑی انفرادی حکومتوں پر بھی قلم کشائی کرتا ہے. 


سامانی، سلجوق اور غزنوی حکومت کے بیان کے بعد مصنف خراسان و ایران و عراق و آذربائیجان میں قائم ہونے والی مختلف چھوٹی چھوٹی مملکتوں کا بیان کرتا ہے.

جن میں دیلمی خاندان، نیمروز کا خاندان، کُرد خاندان یعنی ایوبی خاندان،

اس کے بعد پھر مصنف وسطیٰ ایشیا کے ایک اور نامور حکمران خاندان یعنی خوارزم شاہی خاندان پر تفصیلات مہیا کرتا ہے. لیکن یہاں پر بھی کنجوسی کا مظاہرہ کرتا ہے حالانکہ خوارزم شاہی خاندان کا عروج و زوال اس کے سامنے کی بات ہوتی ہے مگر پھر بھی کافی اہم واقعات معلومات مصنف فراہم کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے. شاید مصنف کتاب کی ضخامت سے خوفزدہ ہوتا ہے.. یہ تو وہی بتا سکتا ہے اس نے کیونکر جلد بازی کی..

اس سب کے خاتمے کے بعد وہ اپنے اصل یعنی غوری خاندان کی تاریخ و حکومت پر لکھتا ہے.. طبقات ناصری کا اصل مرکز یہی غوری خاندان ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا خاندان غوری خاندان سے متصل تھا. اس کی پیدائش، بچپن لڑکپن جوانی سبھی عمر غوری حکمرانوں کے زیر سایہ گزری.

میرے خیال میں غوریوں کے باب میں جتنی مفصل اور مستند معلومات طبقات ناصری میں ہیں. اتنی کسی اور کتاب میں ہوں یہ شاید ہی ممکن ہے..

انشاءاللہ ہم اگلی قسط میں غوریوں پر باقاعدہ ایک قسط میں تفصیل سے تبصرہ کریں گے..

غوریوں کے خاتمے کے بعد مصنف ہندوستان کے خاندان غلاماں پر آتا ہے کیونکہ اس زمانے میں ہمارا مصنف دہلی کے حکمرانوں سے متعلق ہوچکا ہوتا ہے. تبھی خاندان غلاماں پر دل کھول کر تفصیلات مہیا کرتا ہے اور تو اور اپنی کتاب کا نام بھی بادشاہ وقت سلطان ناصر الدین التمش کے نام پر طبقات ناصری لکھ دیتا ہے..

خاندان غلاماں میں قطب الدین ایبک، بختیار غلجی، قباچہ، یلدوز، سلطان التمش کے خاندان اور بعد میں حکمران بننے والے غیاث الدین بلبن پر معلومات مشتمل ہیں.. 

انشاءاللہ اگلی قسط میں ہم کتاب میں دستیاب اہم معلومات پر بحث و تبصرہ کریں گے.. 

جاری ہے.. 


کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ