Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

سلسلہ کتاب تعارف کتاب نام ؛ اعوانوں کی تاریخ مصنف؛ غلام اکبر ملک اشاعت؛1996ء

  سلسلہ کتاب تعارف کتاب نام ؛ اعوانوں کی تاریخ مصنف؛ غلام اکبر ملک اشاعت؛1996ء کتابوں کے تعارفی سلسلے میں آج ہم ایک اہم اور نایاب کتاب پر تب...

 


سلسلہ کتاب تعارف

کتاب نام ؛ اعوانوں کی تاریخ

مصنف؛ غلام اکبر ملک

اشاعت؛1996ء


کتابوں کے تعارفی سلسلے میں آج ہم ایک اہم اور نایاب کتاب پر تبصرہ کرنے جا رہے ہیں. اس کتاب کی کافی عرصہ سے تلاش تھی. گزشہ دنوں تلاش بسیار سے معلوم ہوا کہ یہ کتاب ایک جگہ موجود ہے. جس پر اپنے کرم فرما تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے شخصیات ملک باقی خان اعوان اور جناب بردار مہر محمد اعوان صاحب کو اس بارے میں آگاہ کیا. مہر محمد اعوان صاحب تلہ گنگ میں علم کا مینار روشن کیے ہوئیے ہیں. انھوں نے ایک باقاعدہ لائبریری قائم کر رکھی ہے جس سے تشنگان علم اپنی بجھاتے ہیں. بردار مہر محمد اعوان صاحب کو جب اس کتاب کی موجودگی بارے میں بتایا تو انھوں نے بتایا کہ مطلوبہ جگہ پر کچھ واقف ہیں. امید ہے کہ وہ کتاب حاصل کرنے میں تعاون فرمائیں گے. یوں اس طرح یہ کتاب مہر محمد اعوان صاحب تک پہنچی اور ان کے توسط سے بندہ ناچیز کو بھی عطاء ہوئی جس پر مہر محمد اعوان بھائی کے شکر گزار ہیں اور اس کتاب کا مطالعہ الحمداللہ مکمل کیا. مصنف کتاب ہٰذا غلام اکبر ملک صاحب تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کیلئے کوئی انجان شخصیت نہیں ہیں. غلام اکبر ملک صاحب اور دیگر رفقائے کار خصوصاً نور محمد رازی صاحب نے لاہور میں ایک ادارہ قائم کیا. 

جس کے تحت پاکستان میں بسنے والی مختلف اقوام و قبائل کی تاریخ پر درجنوں کتابیں تصنیف ہوئیں.

اسی ادارے کو اس بات کا اعزاز جاتا ہے کہ انھوں نے نیازی پٹھانوں پر تاریخ میں پہلی مرتبہ باقاعدہ کتاب تصنیف کی.

درجہ بالا بیان سے اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے کہ غلام اکبر ملک صاحب اقوام کی تاریخ پر کس قدر عبور رکھتے تھے

یوں تو اعوانوں کی تاریخ پر بیسیوں کتابیں مارکیٹ میں اور انٹرنیٹ پر پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہیں

جن سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اعوان قوم کی تاریخ بارے میں جانکاری حاصل کی جا سکتی ہے..

اس سب کے باوجود اس کتاب کے مطالعے کی خصوصی خواہش دو وجوہات پر مبنی تھی.

اول غلام اکبر ملک صاحب کا تعلق میانوالی کے علاقہ موسیٰ خیل سے تھا. دوم وہ دیگر اعوان مصنفین و محققین کی نسبت تاریخ کے بارے میں زیادہ وسیع معلومات رکھتے تھے اور اس فیلڈ میں زیادہ تجربہ رکھتے تھے..

اسی وجہ سے امید تھی کہ بہ نسبت دیگر اعوان مصنفین کے انکی کتاب میں میانوالی کے اعوانوں پر زیادہ دقیق معلومات دستیاب ہونگی. اور دوسری بات یہ کہ، چونکہ وہ مختلف اقوام کی تاریخ پر کتابیں تحریر کرچکے ہیں تبھی اسی وجہ سے وہ اعوان قوم کی اصل بارے میں زیادہ وسیع پیمانے بحث کرتے ہوئے دقیق پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے روایتی اعوان مؤرخین سے آگے بڑھ کر کچھ نئی راہیں دکھائیں گے..

اس کتاب سے امید تھی کہ وہ میسوپوٹیما کے قبل از مسیح کے اعوان حکمران خاندان کی تاریخ پر کچھ علمی دقیق محل سلجھائیں گے یا جلال الدین خوارزم کے ساتھ آنے والے ہزاروں آوار ترک سپاہیوں کی کوہ نمک میں آباد کاری سے کوئی ربط تلاش کریں گے.. 

یا پھر گجروں میں موجود آوان قبیلہ کے بارے میں کچھ تطبیق بتائیں گے.. 

مگر مطالعہ کرتے ہوئے مراد بر نہ آئی . بدقسمتی سے غلام اکبر ملک صاحب کی کتاب میں اعوانوں کی اصل پر کوئی محققانہ و عالمانہ گفتگو موجود نہیں. جس طرح انھوں نے اعوانوں کے بارے میں قائم مختلف نظریات کا جائزہ لیا ہے وہ ایسے لگتا ہے جیسے عجلت میں جان چھڑانے والا کام کا مظہر ہے. حالانکہ اس موضوع پر وادی سون سے تعلق رکھنے والے مشہور تاریخ دان سرور خان اعوان نے زیادہ منظم اور مفصل انداز میں زبردست کام کیا ہے..

مثال کے طور پر غلام اکبر ملک صاحب مسٹر کنگھم کے نظریہ کے نظریہ کا جائزہ لیتے ہوئے کنگھم کے اس دعویٰ کہ اعوان مہا بھارت درج قبیلہ انو کی باقیات ہیں کہ رد میں لکھتے ہیں کہ اعوان اگر انو سے انوان ہوئے ہوتے تو یہاں کوئی انو نامی کوئی قبیلہ تو ہوتا. 

لیکن وہ یہ بھول گئے کہ اعوان میں انوال قبیلہ موجود ہے. اعوان اچھی طرح جانتے ہیں کہ انکے ہاں آل کا لاحقہ استعمال ہوتا ہے جیسے حیدر کی اولاد حیدرال، خیر محمد کی اولاد خیروال، صادق کی اولاد صدقال وغیرہ.. 

تو یہ انو کی اولاد انوال ہوگئی.. 

اسی طرح انکی کتاب میں جا بجا متضاد بیانات ہیں 

مثال کے طور پر وہ لکھتے ہیں کہ اعوان سواں دریا سے لیکر بھیرہ تک جا بجا آباد چلے آتے ہیں. لیکن وہ تزک بابری میں بابر کی جانب سے کوہ نمک میں آباد دیگر اقوام کے تذکرہ کے دوران اعوانوں کے تذکرہ نہیں کرتے. جس کی توجیہ ملک صاحب یہ بیان کرتے ہوئے پہلے لکھتے ہیں کہ اعوان اس زمانے میں یہاں آباد ہی نہیں تھے. پھر اگلے صفحے پر لکھتے ہیں کہ بابر بادشاہ چونکہ اعوانوں کے علاقے سے یعنی وادی سون سے نہیں گزرا اسی وجہ سے اس کو اعوانوں کا علم نہیں تھا.. بہرحال یہ حیران کن توجیہ ہے حالانکہ جود جنجوعہ سے زیادہ اعوان کوہ نمک میں آباد ہیں.. 

مزید تاریخ میں کسی پہلے اعوان شخصیت کے تذکرے میں وہ تاریخ فرشتہ کے حوالہ سے امیر تیمور کے ہندوستان پر حملے کے زمانے میں قلعہ میرٹھ پر کسی الیاس اعوان عالی نامی شخص کا دعویٰ کرتے ہیں.. 

یہ دعویٰ چند وجوہات پر مبہم مشکوک ہے. پہلی بات یہ ہے کہ

تاریخ فرشتہ کی عبارت میں الیاس اغوان ہے نہ کہ اعوان... جس کو انھوں اغوان سے اعوان بنا دیا.. بمصداق اس شعر کہ 

ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے 

ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا .. 

اک نقطہ کس قدر اہم ہوتا ہے.. 

دوسری جانب پرانے ریکارڈ میں آئین اکبری سے لیکر انگریزوں کی آمد تک ہر جگہ اعوان کی املا آوان لکھی ملتی ہے.. 

مخزن افغانی کے قلمی اصل نسخہ میں سکندر لودھی کے زمانے میں ایک فیروز افغان نام کی املاء بھی اغوان لکھی تھی جس کو اردو ترجمہ کرنے والوں نے اعوان لکھا ڈالا.. 

حالانکہ مخزن افغانی سے قبل لکھی گئی کتاب طبقات اکبری میں بھی اسی فیروز شخص کو اغوان لکھا گیا اور یہ بھی وضاحت کی کہ اغوان دراصل افغان ہے.

آج بھی افغان کو پشتو کے دیہاتی لہجوں میں افغان لفظ کی ف ساکن ہوجاتی ہے جس کے سبب انکی زبان سے افغان کی آواز دراصل اغوان سنائی دیتی ہے. 

دوسری مثال دہلی میں واقع عیسٰی خان نیازی کا مقبرہ ہے جہاں پر افغان کی بجائے اغوان لکھا ہوا ہے.. 

مطلب پرانے زمانے میں فارسی دان تو افغان کو افغان لکھ اور بول لیتے تھے لیکن ہندی لوگ فارسی زبان لکھتے ہوئے بعض اوقات چوک کر صوتی اثرات کے مطابق افغان کی املاء اغوان لکھ دیتے تھے. متذکرہ بالا بیان اس کی دلیل ہیں اس کے علاوہ پانچویں صدی عیسوی میں گزرے ورہ مہرا نے بھی اغوان/اوگان لکھا. 

اس رد کے بعد انکی الیاس اعوان کی بنیاد پر بنا کردہ تخیلاتی عمارت ڈھے جاتی ہے. 

آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ دھنکوٹ سترھویں صدی عیسوی تک جنجوعہ قوم کے پاس تھا جبکہ اعوانوں نے اس زمانے میں اس کو جنجوعہ قوم سے چھینا.. 

اس بیان نے کالاباغ کے نواب خاندان مصنف شیر محمد اعوان کے دعوے کو مشکوک کردیا جس کے مطابق دھنکوٹ ہی اصل مقام تھا جس کو قطب شاہ نے غزنوی عہد میں زیر کیا تھا. دوسرا سولہویں صدی کے واقعات تو باقاعدہ معاصر تاریخ میں ریکارڈ پر موجود ہیں.. 

جس میں یہاں ہیبت خان نیازی اور سوری سلطنت کے مابین لڑائیں ہوتی رہیں. مطلب دھن کوٹ اس وقت سنبل نیازیوں کے زیر اہتمام تھا جس کا ثبوت یہی تاریخ فرشتہ کے علاوہ دیگر تمام کتابوں کا اتفاق ہے...

بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ دھنکوٹ سولہویں صدی میں جنجوعہ کی بجائے نیازیوں کے پاس تھا اور یہ تواتر کے ساتھ سترھویں صدی کے اواخر تک موجود رہا. 

اس سب موضوعات کے خاتمے کے بعد وہ اعوانوں کے روایتی نظریہ یعنی اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی غیر فاطمی اولاد ہیں اس کا جائزہ لیتے ہیں 

یہاں پر وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اعوانوں کی تاریخ میں جا بجا شکوک و شبہات اور تضادات اعوانوں کے اپنے پیدا کردہ ہیں. جنھوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنا ٹھوس شواہد و بنیادوں اور معاصر تواریخ کا جائزہ لیے بغیر خواہشات کی رو میں بہہ کر تاریخ لکھ ڈالی.. 

مثال کے طور پر وہ قطب شاہ کے غزنوی عہد یا قطب شاہ کو حضرت شیخ جیلانی سے ملانے والے مصنفین کو آڑے ہاتھوں لیا اور فرمایا کہ انساب کی جن کتابوں میں سے جن جن عون یا قطب شاہ نامی افراد اعوان مصنفین نے غزنوی یا شیخ جیلانی کے ساتھ ملایا ہے اگر عمیق نظر سے جائزہ لیا جائے تو انکے آپسی زمانوں میں تال میل ٹوٹ جاتا ہے.. 

اسی طرح قطب شاہ کو غزنوی عہد حکومت میں ہرات کا بادشاہ لکھنے والے مصنفین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور لکھا کہ پہلی بات ہے کہ ہرات ہمیشہ سے غزنوی سلاطین کے ماتحت رہا وہ کوئی خود مختار بادشاہ نہیں تھا بلکہ وہ غزنوی دربار کے بھیجے ہوئے گورنر یا حاکم ہوتے تھے لیکن پوری غزنوی عہد میں ہرات کو کوئی قطب شاہ تو کجہ کوئی عرب بھی حاکم نہیں رہا.. 

اسی طرح غلام اکبر ملک صاحب کا کہنا ہے کہ بہڑائچ میں مدفون سالار مسعود غازی کو بھی اعوان مصنفین نے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے زبردستی اعوان بنا ڈالا. اور اس کا والد کسی ساہو کو بنا دیا جس کے بیوی غزنوی کی بہن تھی.. 

حالانکہ منابع میں ایسی کوئی بات موجود نہیں. ساہو ایک افغان سردار تھا جبکہ غزنوی کی دو ہمشیرہ ترکوں میں بیاہی گئیں.. 

غلام اکبر ملک صاحب روایتی تاریخ میں اپنا وزن حضرت محمد حنیفہ بن علی رضی اللہ عنہ سے اعوانوں کے ہونے میں وزن ڈالتے ہیں بہ نسبت حضرت عباس علمدار بن علی رضی اللہ عنہ کے.. 

جس کے ثبوت میں وہ میزان ہاشمی اور میزان قطبی نامی کتابوں کے حوالے دیتے ہیں.. 

حالانکہ کچھ اعوانوں مصنفین نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کتابیں سرے سے وجود ہی نہیں رکھتیں 

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک صاحب کی دسترس میں یہ واقعی طور پر دونوں کتابیں تھیں یا محض مولوی نورالدین کے بیان پر یہ بات لکھ ڈالی.. اس کی وضاحت از حد ضروری ہے.. 

ملک شیر محمد اعوان نے تو عون نامی افراد میں ربط لانے کیلئے دو قطب اختراع کئے تھے لیکن فاضل مصنف نے جلال الدین غلجی کے زمانے میں گزرے ایک قطب الدین علوی کو اعوانوں کا جد امجد بنا کر تیسرا قطب بھی لاکھڑا کیا ہے.. 

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ علاؤالدین غلجی کے زمانے میں غلجی امراء میں سے ایک ملک قطب الدین علوی تھا اور قیاس ہے کہ یہی اعوانوں کا جد امجد ہے.. 

غلام اکبر ملک صاحب فاطمی اور علوی میں تقسیم فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فاطمی وہی ہیں جنھیں ہندوستان میں سید کہا جاتا ہے یعنی امام حسن یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد جبکہ علوی سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی غیر فاطمی اولاد.. حالانکہ کے علمائے عرب کے ہاں ایسی کوئی تفریق نہیں وہ پرانے زمانے میں سبھی کو بلاتفریق علوی کہتے تھے.. 

بالفرض اگر علوی و اعوان ایک ہی ہیں جیسے عربی ہاشمی قریشی یکساں ہیں شمار ہوتے ہیں یا جیسے افغان پٹھان پشتون میں کوئی فرق نہیں جیسے فارسی،عجمی ایرانی میں ربط موجود ہے. اس طرح کا علوی اور اعوان میں اب تو کوئی ٹھوس رابط ثابت کرنے میں ناکام رہے. 

بہرحال ملک صاحب بھی دیگر اعوان مصنفین کی طرح آخر میں عون بھی یعلی نامی شخص کی تلاش میں تذبذب کا شکار ہو کر اسی روایتی دھارے میں ڈوب جاتے ہیں..

کتاب کے اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اعوان دراصل چار طبقات کے اتصال پر مشتمل ہیں

اول اصل نسلی اعوان جو عون بن یعلی کی اولاد ہیں

دوم وہ اعوان جو کہ قطب شاہ کی ہندوستانی خواتین کے بطن سے پیدا ہوئے اور اپنے ننھیالوں میں پرورش پاتے اور شادیاں کیں

تیسرے وہ لوگ جو متذکرہ بالا اقوام کھوکھر چوہان وغیرہ میں سے تھے مگر بہ سبب رشتہ داری و عقیدت مندی خود کو اعوان کہلانے لگے اور چوتھے وہ جاٹ یا دیگر اقوام کے لوگ جو اعوان کی شہرت کے سبب خود کو اعوانوں میں شمار کرنے لگے..

جیسا کہ غلام اکبر ملک صاحب سے امید تھی کہ وہ میانوالی کے اعوانوں پر کوئی نئی معلومات یا یا نظروں سے اوجھل گوشوں سے پردہ ہٹائیں گے. لیکن اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں دیں البتہ انھوں نے میانوالی کے میانوں کو اعوان لکھا ہے حالانکہ میانوں کا اپنا دعویٰ ہے کہ وہ سید ہیں..

جیسے ملک صاحب نے دیگر کتابوں کے آخر میں اقوامِ کے شجرے لکھے ہیں اس کتاب کے آخر میں اعوانوں کے کوئی شجرے تصنیف نہیں کئے...

اس طویل تبصرہ کا چند سطری مرقع یہ ہے کہ ملک صاحب نے کتاب لکھ کر تاریخ کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھا دیا ہے.. بظاہر معلومات ہوتا ہے کہ انھوں نے عجلت میں یہ کتاب لکھ کر جان چھڑائی... 




 



کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ