سلسلہ کتاب تعارف کتاب نام؛ مہاراجہ رنجیت سنگھ مصنف؛ پروفیسر سیتا رام زمانہ اشاعت اول ؛ 1933ء اشاعت پاکستان دوم؛ 2002ء قسط وار قسط چہارم ف...
سلسلہ کتاب تعارف
کتاب نام؛ مہاراجہ رنجیت سنگھ
مصنف؛ پروفیسر سیتا رام
زمانہ اشاعت اول ؛ 1933ء
اشاعت پاکستان دوم؛ 2002ء
قسط وار
قسط چہارم
فاضل مصنف نے کتاب کے آخر میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ رنجیت سنگھ یا سکھوں کے عہد میں باقاعدہ کوئی ریاستی مشینری یا انتظام نہیں تھا..
جہاں مصنف نے رنجیت سنگھ کی جانب سے بادشاہی مسجد لاہور کی بیحرمتی اور شعار اسلام پر لگائے جانے والے پابندیوں پر پردہ پوشی کی وہیں مصنف اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ جب بھی کوئی یورپی فوجی کو رنجیت سنگھ بھرتی کرتا تھا تو اس پر گائے کا گوشت کھانے پر ممانعت ہوتی... اب آپ سوچیں کہ جو بندہ اپنے افسران کو گائے کا گوشت کھانے نہیں دیتا تھا تو وہ بھلا عام مسلمانوں کو کیونکر گائے ذبح کرنے دیتا ہوگا...
مصنف یہ تو جا بجا بتاتا ہے کہ رنجیت سنگھ دسہرا و دیوالی دھوم دھام سے مناتا تھا. لیکن کبھی کسی جگہ یہ نہیں بتایا کہ اس نے اپنی ماتحت اکثريتی ستر فیصد مسلم رعایا کے کسی تہوار پر شمولیت کی ہو یا اس کو منایا ہو...
بہرحال اس کتاب سے یہ نتیجہ خوب واضح ہوتا ہے کہ رنجیت سنگھ ایک مکروہ کردار کا آدمی تھی. بدقسمتی
آج ہمارے کچھ نادان دوست اور اندھے قوم پرست پنجابی جن میں اکثریت عیسائیوں اور کادیانی کی جو جان بوجھ کر آنکھوں پر پٹی باندھے بغض اسلام و پشتون میں رنجیت سنگھ کو ہیرو جبکہ اپنے ہم مذہب افغان مسلمانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں. وہ اور کچھ نہیں تو یہ ہی سوچ لیں کہ یہی سکھ تھے جنھوں نے پنجابی مسلمانوں کو قیام پاکستان کے وقت ہر قسم کی اذیت دی. پنجابی مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹا، پنجابی مسلمانوں کا قتل عام کیا، پنجابی لڑکیوں کی عصمت دری کی.. مطلب مال جان عزت تینوں لوٹیں. یہ ہم نہیں کہہ رہے یہ پنجابی مسلمان خود بتاتے ہیں لیکن سب کچھ جاننے کے باوجود کہنا کہ رنجیت سنگھ پھر بھی پنجابیوں کا ہیرو ہے تو میرے خیال میں ایسے پنجابی یقیناً مسلمان بلکل نہیں بلکہ وہ یا تو نام کے مسلمان ہیں یا پھر وہ کادیانی ہیں.. یا پھر پرلے درجے کے بیغرت... کیونکہ بیغرت بندہ ہی اس شخص کو اپنا محسن و ہیرو بنا سکتا ہے جس کی مال جان آبرو لوٹنے والا ہیرو ہو..
رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد سکھوں کی آپسی چپقلش اور رانی جنداں کور کے معاشقہ نے سکھا شاہی سلطنت کو زمین بوس کردیا...
فاضل مصنف کی ہی کتاب سے معلوم ہوا کہ رنجیت سنگھ انتہائی گھٹیا خاندان سے تھا. جس کا باپ دادا خاندانی لُٹیرے تھے. پنجاب کے مسلمانوں کے گاؤں اور قصبوں پر لوٹ مار کرتے تھے. رنجیت سنگھ کے والد کے مرنے کے بعد اس کی والدہ کا معاشقہ چل نکلا رنجیت سنگھ اپنی ماں اور اس کے عاشق دونوں کو قتل کیا، بیوی کے ہاں ناجائز بچے پیدا ہوتے ہیں، ساس جو ہمیشہ معاون و مددگار رہی اس کو بھی احسان فراموش نمک حرام رنجیت سنگھ نے ٹھکانے لگانے سے نہیں چوکا.. تیمور شاہ جس نے رنجیت سنگھ کو لاہور کی حکمرانی دی اس کی اولاد سے بھی دغا بازی کی. باقی رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد اس کی رانی جنداں کور نے بھی معاشقہ لڑایا...بالآخر سکھوں کو عقل آئی لیکن وقت گزر چکا تھا. امیر دوست محمد خان نے جندا کور سے انگریزوں کے ناروا سلوک پر احتجاج کیا اور چیلیانوالی گجرات کی لڑائی میں سکھوں کی معاونت کیلئے پندرہ سو سواروں پر مشتمل ایک دستہ اپنے بیٹے اکرم خان درانی کی قیادت میں بھیجا لیکن شکست سکھوں کے مقدر میں تھی اور سکھ راج ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا. پنجاب کے مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا...
رنجیت سنگھ کے عہد لاہور کا فقیر خاندان معتبر و معزز رہا یہ واحد مسلمان خاندان تھا جس کو رنجیت سنگھ نے عزت و احترام کے ساتھ اپنے ساتھ رکھا جس کی خالصہ دربار میں عزت و اہمیت تھی..
ختم شد...
نوٹ بطور مسلمان ہمارے لئے ابلیس، نمرود، فرعون، ابوجہل، یزید, غلام کادیانی اور رنجیت سنگھ یکساں قابل نفرت ہیں. پس ایسی اسلام دشمن شخصیات کے محبان پوسٹ سے دور رہیں..
شکریہ..

کوئی تبصرے نہیں
Hi