ثقی بھائی دوسرا کا موجد ۔ ۔۔ نوے کی دھائی کے اوائل میں شور ہوا شین وارن کی صورت میں ایک بہت ہی خطرناک لیگ سپنر آنے والا ہے ۔ ۔ شین و...
ثقی بھائی
دوسرا کا موجد ۔ ۔۔
نوے کی دھائی کے اوائل میں شور ہوا
شین وارن کی صورت میں ایک بہت ہی
خطرناک لیگ سپنر آنے والا ہے ۔ ۔
شین وارن کی دھماکے دار انٹری اور ساتھ
میں کمزور
سری لنکن ٹیم میں ایک اچھا آف سپنر مرلی دھرن سپن میں راج کر رہے تھے ۔ ۔
اسی دوران انڈین انیل کمبلے بھی مشہور سپنر مانے جاتے تھے ۔ ۔
پاکستان کی طرف سے عبد القادر کا سورج ☀️ غروب ہونے پر ونڈے میں اکرم رضا اور ٹیسٹ میں مشتاق سپن باؤلنگ کا شعبہ سنبھالے ہوئے تھے ۔ ۔
اسی دوران دنیائے کرکٹ میں شکل و صورت میں انتہائی معصوم اور عادتوں میں بھی بھلے مانس ثقلین مشتاق کی انٹری ہوئی ۔ ۔
موجودہ کرکٹ کی طرح ثقلین نازل نہیں ہوا تھا بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ 🏏 میں تہلکہ مچایا ہوا تھا ۔ ۔
دیکھتے ہی دکھنے بظاہر عام سا فنگر سپنر کرکٹ کے افق پر ایک دہشت کی علامت بن گیا ۔ ۔
اس دور کی کرکٹ میں آخری 5 اوور ہٹنگ کے ہوتے تھے جس میں ثقلین نے بڑے بڑوں کو باندھ کے رکھ دیا ۔ ۔
اور آخری اوور سپن باؤلر کو آزمانا کرکٹ میچ کی موت تھی پر یہاں ثقلین موت بن جاتا تھا ۔ ۔
اور ثقلین کے لیے ایشیا یورپ افریقہ آسٹریلیا میٹر نہیں کرتا تھا شیشے پر بال ایسے ہی گھومے گی جیسے کمال کا سپن ٹریک ہو ۔ ۔
اسی دوران وکٹوں کے نیچے نیا نیا مائیک لگا تھا اور
معین خان کی بار بار آواز گونجتی
ثقی دوسرا
ثقی دوسرا ۔ ۔
تب انگریز نے تحقیق کی کہ یہ دوسرا کیا بلا ہے جو صرف دو جگہ وار کرتا تھا دائیں ہاتھ کے بلے باز کے بلے کے کونے کو چومتا ہے اور معین کے ہاتھوں میں بائیں ہاتھ کے بلے باز کے صرف پیڈ یا پیچھے وکٹوں کی طرف لپکتا تھا ۔ ۔
یہ عقدہ کھلا تو معلوم پڑا
بنا ایکشن بدلے بنا کسی نئے باڈی پوسچر کے ثقلین
آف سپن سے ہٹ کے
wrong one
کر رہا ہے ۔ ۔
مطلب جو بال اندر انی چائیے وہ باہر جا رہی ہے جس بیٹر کو بال باہر جانی چاہیے اسے اندر آرہی ہے
چھ میں سے کون سی بال باہر جائے گی کون سی بال دوسرا ہوگی کسی بیٹر کو کوئی پتہ نہ ہوتا ۔ ۔
جب تک یہ مہمہ حل ہوتا ثقلین مشتاق وکٹوں کی سنچریاں کر چکا تھا ۔ ۔
اس دور میں مرلی دھرن وکٹوں اور ایوریج میں ثقلین کو
chase
کرتا رہتا تھا ۔ ۔
اور مرلی کے بقول ثقلین کے دوسرا ایجاد کرنے کے تین سال بعد مسلسل کوشش سے مرلی نے دوسرا کا آرٹ سیکھا پر یہ آرٹ تب بھی اتنا لیتھل نہیں تھا جتنا ثقلین کو مہارت تھی ۔ ۔
پھر نہ جانے کس کی نظر لگی کہ ثقلین مشتاق کو گھٹنے کی انجری نے ایسے دبوچ لیا کہ وہ دوبارہ کرکٹ گراؤنڈز کی اندر آئے ضرور پر جیسے پھول مرجھا گیا ہو ۔ ۔
اور محض 28 سال عمر میں کرکٹ کو ہمیشہ خیر آباد کہہ دیا ۔ ۔
اگر ثقلین 10 سال اور کھیل جاتے تو شاید انکے بنائے گئے ریکارڈ توڑنا اس گولے میں ممکن نہ ہوتا ۔ ۔

کوئی تبصرے نہیں
Hi