Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

انگریزی کہانی ترجمہ۔۔فیروز افریدی ... اسی منٹ کی کہانی

  انگریزی کہانی  ترجمہ۔۔فیروز افریدی ...                               اسی منٹ کی کہانی آٹھ بجے  صبح میں نے ایک  برفانی مجسمہ بنایا۔ اٹھ بجک...

 


انگریزی کہانی 


ترجمہ۔۔فیروز افریدی ...


 

                            اسی منٹ کی کہانی


آٹھ بجے  صبح میں نے ایک  برفانی مجسمہ بنایا۔


اٹھ بجکر دس منٹ کے بعد یہاں سے ایک فیمننٹ خاتون کا گزر ھوا اور مجھ سے پوچھا  کہ میں نے برفانی عورت کا مجسمہ کیوں  نہیں بنایا؟


اٹھ بجکر پندرہ منٹ  پر میں نت مجسمے میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے    ایک برفانی عورت کا مجسمہ بنایا۔


اٹھ بجکر سترہ منٹ پر میرے  نسبتا دور کے  پڑوسی نے برف کی اس عورت مجسمے کے  ابھرے ہوئے سینے کے بارے میں شکایت کی کہ اس جگہ پر عورتوں کا اعتراض ھوسکتا ہے۔


اٹھ بجکر بیس منٹ پر ایک  ہم جنس پرست جوڑے جو قریبی رہ رہے تھے  نے اعتراض کیا  کہ ان کے خیال میں ایک  کے بجائے دو برف کے آدمی بنائے  جا نے چاھئے تھے


اٹھ بجکر بائیس منٹ پر ایک  ٹرانسجینڈر نے یہ پوچھا کہ میں نے صرف اس  برف سے بنے شخص کو قابل دید  حصوں کے ساتھ  کیوں نہیں بنایا ؟


اٹھ بجکر پچیس منٹ پر ایک ویجیٹرئین  نے گاجر کی ناک کے بارے میں شکایت کی، اور کہا آپ نے ناک کی جگہ گاجر کیوں لگایا ؟ کیونکہ ویجی  کا خیال تھا کہ سبزی   کھانے کی چیز ہے اور برف کے بنے مجسموں کو سجانے کے لئے نہیں۔


اٹھ بجکر اٹھائیس منٹ پر کچھ سیاہ فاموں نے مجھے  نسل پرست کہا  کیونکہ انکے خیال  میں یہ برفانی مجسمہ  سفید کیوں  ہے.؟


اٹھ بجکر اکتیس منٹ پر چند مسلمانوں نے کہا  کہ کم از کم اس  برفانی عورت کو تو برقعہ پہنانا  چاھئے تھا۔


اٹھ بجکر چالیس منٹ پر پولیس کا کہنا تھا  کہ اس کے بنانے سے اپکا مقصد کسی کو بدنام کیا جانا ھے۔


اٹھ بجکر بیالیس منٹ پر ایک عیسائی  پڑوسی نے  شکایت کی ہے کہ برف کی عورت کے ھاتھوں سے  بروک کو ہٹانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے خواتین کو گھریلو کردار میں دکھایا ہے۔


اٹھ بجکر تریتالیس منٹ پر  یونین کونسل سے ایک  افسر آ پہنچا اور مجھے خطرناک نتائج کے بارے میں اگاھی  دی ۔.


اٹھ بجکر پینتالیس منٹ پر اے بی سی  ٹی وی نیوز کے عملے کو اس بات پر اعتراض تھا اور مجھے پوچھا جاتا ہے کہ کیا میں برفانی مرد اور برفانی خواتین کے درمیان فرق جانتا ہوں؟


میں جواب دیتا ہوں کہ جی ہاں دیکھئے سنو بال لگائیں ہیں  

اور اب میں انکے خیال میں  جنس پرست کہلایا جاتا ہوں۔


نو بجے کی نیوز پر  مجھے ایک مشتبہ دہشت گرد، نسل پرست حساس اور ہم جنس پرستوں سے نفرت کرنے والا مجرم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ،اب اس  مشکل برفانی موسم کے دوران مجسمے بنا کر مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


نو بجکر دس منٹ  پرمحکمے والے  مجھ سے  پوچھ رہے ہیں  کہ میرے پاس گھر میں کون او و کتنے ممبرز ہیں  اور تھوڑی دیر بعد میرے بچوں کو سوشل سروسز کے عملے کی طرف سے اٹھا لیے جاتے ہیں ۔


نو بجکر بیس منٹ پر ایک جماعت کے مظاہرین  جلوس نکال کر مظاہرہ کررہے ہیں ۔ یہ لوگ میری اس ایکٹویٹی پر ناراض ہیں، سڑک پر چلتے ہیں اور حکومت  سے مطالبہ کیا. کہ مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جائے


مورال یا خلاصہ:

 اس کہانی کے لئے کوئی اخلاقی مورال نہیں ہے. یہ دنیا کا واحد نقطہ نظر ہے جس میں ہم آج زندہ  ہیں، اور  روز بروز  بد سے بدتر کی جانب جا رہے ہیں ۔.

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ