تازہ غزل کہ جیسے آنسو کوٸی چشم ِ نیم باز میں قتل ہمارے بچے ہوۓ ہیں ترے گداز میں قتل کہاں پہ لا کے کیا تو نے امن کا اعلان دھ...
تازہ غزل
کہ جیسے آنسو کوٸی چشم ِ نیم باز میں قتل
ہمارے بچے ہوۓ ہیں ترے گداز میں قتل
کہاں پہ لا کے کیا تو نے امن کا اعلان
دھواں اڑا کے کیا تونے ہم کو راز میں قتل
رہا ہے یاد ہمیں کب حساب ِ سود و زیاں
ہم عشق پیشہ ہیں ، ہوتے ہیں سوز و ساز میں قتل
یزید ِ وقت دلایا ہے یاد تم نے ہمیں
تمہارے پرکھوں نے کیسے کیے حجاز میں قتل
ہمیں بھی سجدے میں مرنا پسند ہے فرحت
کیے ہیں تم نے بھی تو حالت نماز میں قتل
فرحت عباس شاہ

کوئی تبصرے نہیں
Hi