Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

  میں تلخئ حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلک...

 



میں تلخئ حیات سے گھبرا کے پی گیا

غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا


اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے

یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا


چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلفِ یار

کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا


میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور

میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا


دنیائے حادثات ہے ایک درد ناک گیت

دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا


کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہی کیا

پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا


ساغر وہ کہہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضور

ان کی  گزارشات سے گھبرا کے پی گیا


ساغر صدیقی ~

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ