Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

نہرو کےعشق :روسی نے کمرے کا دروازہ کھولا تو ایڈوینا کو نہرو کی باہوں میں جکڑا پایا

  نہرو کےعشق  :روسی  نے  کمرے کا دروازہ کھولا تو ایڈوینا کو نہرو کی باہوں میں جکڑا پایا لوگ کہتے ہیں کہ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی اہلیہ ای...

 



نہرو کےعشق  :روسی  نے  کمرے کا دروازہ کھولا تو ایڈوینا کو نہرو کی باہوں میں جکڑا پایا


لوگ کہتے ہیں کہ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی اہلیہ ایڈوینا پر نہرو کا دل آ گیا تھا لیکن ایڈوینا سے پہلے وائسرائے ویویل کی اہلیہ لیڈی یوجین ویویل بھی نہرو کو دل و جان سے چاہتی تھیں۔ وہ چونکہ عمر میں نہرو سے بڑی تھیں اور شکل و صورت کے اعتبار سے بہت زیادہ خوبصورت نہیں تھیں، اس لیے ان کے بارے میں اتنی افواہیں نہیں پھیلیں۔


نہرو ویویل کے زمانے میں بھی گورنمنٹ ہاؤس میں سوئمنگ پول میں تیرنے کے لیے جاتے تھے لیکن تب اس بارے میں کوئی ذکر نہیں ہوا۔ لوگوں کی توجہ اس طرف تب مرکوز ہوئی جب ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن بھی اس سوئمنگ پول میں نہرو کے ساتھ تیرتی ہوئی دیکھی گئیں۔


نہرو کے ساتھ ایڈوینا کی دوستی اس وقت پروان چڑھی جب ایڈوینا اور ان کا خاندان واپس انگلینڈ جانے کی تیاری کررہا تھا۔


ماؤنٹ بیٹن کی سوانح عمری لکھنے والے فلپ زیگلر اور ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے مصنف لیری کولنس اور ڈومنیک لاپیئر نے اس بارے میں بہت بے باکی سے لکھا ہے۔


نہرو کی سوانح عمری کے مصنف ایم جے اکبر لکھتے ہیں ’اس بارے میں سب سے پختہ ثبوت ٹاٹا سٹیل کے ایک سابق اعلیٰ اہلکار روسی مودی نے دیا تھا۔ 1949 سے 1952 کے درمیان روسی کے والد سر ہومی مودی اترپردیش کے گورنر کے عہدے پر فائز تھے۔ نہرو اترپریش کے مشہور ہل سٹیشن نینیتال گئے ہوئے تھے اور گورنر مودی کے ہمراہ ٹھہرے ہوئے تھے۔‘


’جب رات کے 8 بجے تو سر مودی نے اپنے فرزند سے کہا کہ وہ نہرو کے کمرے میں جاکر انہیں اطلاع دے کہ میز پر کھانا لگ چکا ہے اور سب لوگ ان کے منتطر ہیں۔‘


اکبر مزید لکھتے ہیں ’جب روسی مودی نے نہرو کے کمرے کا دروازہ کھولا تو انھوں نے دیکھا کہ نہرو نے ایڈوینا کو اپنی باہوں میں بھرا ہوا تھا۔ نہرو نے روسی کو دیکھا اور انہوں نے عجیب سا منھ بنایا۔ مودی نے جلدی سے دروازہ بند کردیا اور باہر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد نہرو کھانے کی میز پر پہنچے اور پھر ان کے پیچھے پیچھے ایڈوینا بھی آگئیں۔‘


ایڈوینا کا ’ جواہا ‘


نہرو کی ایک اور سوانح عمری لکھنے والے مصنف سٹینلے والپرٹ لکھتے ہیں کہ انہوں نے نہرو اور ایڈوینا کو دلی کی للت کلا اکیڈمی میں ایک پروگرام کی افتتاحی تقریب میں دیکھا تھا۔


والپرٹ لکھتے ہیں ’مجھے یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ نہرو کو سرعام ایڈوینا کو چھونے، ان کا ہاتھ پکڑنے اور ان کے کانوں میں باتیں کرنے سے کوئی پرہیز نہیں تھا۔ ماؤنٹ بیٹن کے نواسے لارڈ ریمسی نے مجھ سے کہا تھا کہ ان دونوں کے درمیان محض ایک اچھی دوستی تھی۔ اس سے زيادہ کچھ بھی نہیں۔ لیکن خود لارڈ ماؤنٹ بیٹن ایڈوینا کے نام لکھے نہرو کے خطوط کو 'محبت نامے' کہا کرتے تھے۔ ان سے زیادہ کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایڈوینا کس حد تک اپنے 'جواہا' کو چاہتی تھیں۔‘


آخری وقت تک نہرو کے پاس ایڈوینا کے خطوط تھے

جب 21 مارچ 1949 کو جواہر لال نہرو دولت مشترکہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لندن گئے تو ہیتھرو ہوائی اڈے پر لندن میں بھارتی سفارتکار کرشنا مینن نے ان کا استقبال کیا اور اپنی رولز روئس میں انہیں ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن کے گھر لے گئے۔


اوپی رلہن اپنی کتاب ’جواہر لال نہرو ابروڈ- اے کورنولوجیکل سٹڈی‘ میں ذکر کرتے ہیں کہ اگلے دن نہرو نے جارج پنچم کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا اور اس کے بعد شام کو انھوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ایڈوینا انھیں کار میں اپنے گھر ’براڈلینڈز‘ لے گئیں جہاں انھوں نے ساتھ ویکنڈ گزارا۔


نہرو کے معاون متھائی کو بھی اس بارے میں تشویش اس وقت ہوئی جب انھوں نے غلطی سے ایڈوینا کا اپنے ’ڈارلنگ جواہا‘ کو لکھا ایک خط پڑھ لیا۔


ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن کی سوانح عمری ’ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اے لائف آف ہر اون‘ کی مصنفہ جینیٹ مورگن لکھتی ہیں ’5 فروری 1960 کو انڈونیشیا کے شہر بورنیو میں ایڈوینا کا دورانِ نیند انتقال ہو گیا۔ سونے سے قبل وہ نہرو کے خطوط کو دوبارہ پڑھ رہی تھیں جو سوتے ہوئے ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئے تھے۔‘


  

مردولا سارابھائی سے نہرو کی قربت

پنڈت نہرو کی اہلیہ کملا نہرو کی سنہ 1936 میں وفات کے بعد نہرو کئی خواتین کے قریب رہے۔ ان میں سے ایک تھیں خلائی سائنسدان وکرم سارابھائی کی بہن مردولا سارابھائی۔


سنہ 1911 میں پیدا ہونے والی مردولا سارابھائی اپنی خود نوشت ’دا وائس آف دا ہارٹ‘ میں لکھتی ہیں کہ نہرو سے ان کی پہلی ملاقات چنئی میں ہوئی تھی جب وہ ان کے گھر ڈنر پر آئے تھے۔


مردولا نے اپنے بال کٹوا دیے تھے۔ وہ نہ تو کوئی میک اپ استعمال کرتی تھیں اور نہ ہی کوئی زیور پہنتی تھیں۔


سنہ 1946 میں نہرو نے انھیں کانگریس پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنایا تھا۔ ان کی نہرو سے محبت کا عالم یہ تھا کہ جب نہرو ریاستوں کے دورے پر جاتے تھے تو وہ وہاں کے وزیر اعلیٰ اور سیکریٹریوں کو خط لکھ کر ان کے لیے کیے گئے حفاظتی انتظامات کے بارے میں احکامات جاری کرتی تھیں۔


پدمجا نائیڈو سے بھی نہرو کے گہرے تعلقات تھے

سروجنی نائیڈو کی بیٹی پدمجا نائیڈو سے بھی نہرو قریب تھے۔ ان کا جنم 1900 میں ہوا تھا۔ 2 مارچ 1938 کو پدمجا کو لکھنؤ سے لکھے گئے ایک خط میں نہرو نے لکھا تھا 'تم کو دیکھ کر اچھا لگا۔ اور کم سن ہوتی جاؤ تاکہ جو لوگ بوڑھے ہو رہے ہیں ان کی کمی پوری کرسکو۔‘


پدمجا کو بھیجے ایک ٹیلی گرام کے جواب میں نہرو نے لکھا تھا ' تمہارا ٹیلی گرام موصول ہوا۔ کتنا بے وقوفی بھرا اور بالکل خواتین جیسا۔ شاید یہ سوبھاش کے ساتھ عشق کرنے کا کفارہ ادار کررہی ہو (سیلیکٹیڈ ورکس آف جواہر لال نہرو جلد 13)۔ سینیئر صحافی ایم جے اکبر نہرو کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ انڈیا کی آزادی کے دو ہیرو سیاست کے علاوہ دوسرے شعبوں میں مقابلہ کررہے تھے۔


18 نومبر 1937 کو لکھے گئے ایک اور خط میں نے نہرو نے پدمجا سے پوچھا کہ ’تمہاری عمر کیا ہے؟ 20؟‘

شاید نہرو مذاق کررہے تھے کیونکہ پدماجا سنہ 1900 میں پیدا ہوئی تھیں۔ اور اس وقت ان کی عمر 37 برس تھی۔


انھوں نے ایک اور خط میں پدمجا کو مشورہ دیا تھا کہ وہ جب بھی انھیں خط لکھیں تو اس پر ذاتی تحریر کر دیں تاکہ ان کا سیکریٹری اس خط کو نہ کھولے۔


متھائی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’پدمجا جب بھی نہرو کے الہ آباد میں واقع ان کے گھر آنند بھون یا دلی کے تین مورتی والی رہائش پر آتیں تو نہرو کے بغل والے کمرے میں رکنے کا اسرار کرتیں۔‘


وہ مزید لکھتے ہیں ’وہ ہمیشہ بہت گہرے گلے والا بلاؤز پہنتی تھیں۔ ایک بار جب نہرو کی خواب گاہ میں انھوں نے لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی دو تصاویر دیکھیں تو برداشت نہیں کرپائیں۔ انھوں نے بھی اس کمرے کے آتش دان کے اوپر اپنی تصویر آویزاں کر دی جہاں لیٹے ہوئے نہرو کی نظر اس پر پڑتی رہے۔ لیکن جیسے ہی پدمجا گئیں انھوں نے وہ تصویر اتروا کر سٹور میں رکھوا دی۔‘


متھائی ایک اور ایسے ہی قصے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’پدمجا کو اس سے اتنی حسد ہوئی کہ انھوں نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اور ایڈوینا سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کردیا۔ بعد میں نہرو نے پدمجا کو مغربی بنگال کا گورنر بنا دیا اور وہ ایک دہائی سے زائد اسی عہدے پر فائز رہیں۔‘


شردھا ماتا اور نہرو

متھائی نے اپنے کتاب میں بنارس کی ایک اور خوبصورت خاتون کا ذکر کیا جو خود کو راہبہ اور شردھا ماتا کہتی تھیں۔


متھائی کا الزام ہے کہ اس خاتون نے 1948 میں نہرو کو اپنی طرف راغب کیا۔


1979 میں مشہور صحافی خوشونت سنگھ کو ’نیو ڈہلی‘ میگزین کے لیے دیے ایک انٹریو میں شردھا ماتا نے نہرو کے ساتھ کسی بھی طرح کے جسمانی تعلق کی زبردست مذمت کی لیکن یہ ضرور قبول کیا کہ نہرو سے ان کی ملاقاتیں ہوتی رہیں تھیں اور وہ ان سے بے حد متاثرتھے۔

انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ نہرو کے دل میں کبھی بھی دوسری شادی کی بات آئی ہوتی تو انہوں نے ان سے شادی کرلی ہوتی۔


(ریحان فضل 

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ