مدت سے ہے یہ عالم دل کا ہنسنا بھی نہیں رونا بھی نہیں ماضی میں کبھی دل میں نہ چُبھا آ ئندہ کا سوچا بھی نہیں وہ میرے ہونٹ پہ لکھا ہے...
مدت سے ہے یہ عالم دل کا ہنسنا بھی نہیں رونا بھی نہیں
ماضی میں کبھی دل میں نہ چُبھا آ ئندہ کا سوچا بھی نہیں
وہ میرے ہونٹ پہ لکھا ہے جو حرف مکمل ہو نہ سکا
وہ میری آنکھ میں بستا ہے جو خواب کبھی دیکھا بھی نہیں
شامل ہے ہوا کی آہوں میں وہ گیت جو لب تک آ نہ سکا
میری ہر نظم کا عنواں ہے جو شعر ابھی لکھا بھی نہیں
چلتے چلتے کچھ تھم جانا پھر بوجھل قدموں سے چلنا
یہ کیسی کسک سی باقی ہے جب پاؤں میں وہ کانٹا بھی نہیں
دُھندلائی ہوئی شاموں میں کوئی پرچھائیں سی پھرتی رہتی ہے
میں آہٹ سنتی ہوں جس کی وہ وہم نہیں سایا بھی نہیں
تزئینِ لب و گیسو کیسی پندار کا شیشہ ٹوٹ گیا
تھی جس کے لیے سب آرائش اس نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں
جب سُست قدم شب بیت چلی ہولے ہولے نیند آ ہی گئی
سب افسوں وقت جگاتا ہے اور وقت کبھی ٹھہرا بھی نہیں
فہمیدہ ریاض

کوئی تبصرے نہیں
Hi