Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

‏سب افسوں وقت جگاتا ہے اور وقت کبھی ٹھہرا بھی نہیں ‏فہمیدہ ریاض

  مدت  سے ہے یہ عالم دل کا ہنسنا بھی نہیں رونا بھی نہیں ‏ماضی میں کبھی دل میں نہ چُبھا آ ئندہ کا سوچا بھی نہیں ‏وہ  میرے  ہونٹ  پہ  لکھا  ہے...

 



مدت  سے ہے یہ عالم دل کا ہنسنا بھی نہیں رونا بھی نہیں

‏ماضی میں کبھی دل میں نہ چُبھا آ ئندہ کا سوچا بھی نہیں


‏وہ  میرے  ہونٹ  پہ  لکھا  ہے  جو  حرف  مکمل ہو نہ سکا

‏وہ میری آنکھ میں بستا ہے جو خواب کبھی  دیکھا بھی نہیں


‏شامل ہے ہوا کی آہوں میں وہ گیت جو لب  تک آ نہ سکا

‏میری ہر نظم کا عنواں ہے جو شعر ابھی لکھا  بھی نہیں


‏چلتے چلتے کچھ  تھم  جانا  پھر  بوجھل  قدموں سے چلنا

‏یہ کیسی کسک سی باقی ہے جب پاؤں میں  وہ کانٹا بھی نہیں 


‏دُھندلائی ہوئی شاموں میں کوئی  پرچھائیں سی پھرتی رہتی ہے

‏میں آہٹ سنتی ہوں جس  کی  وہ وہم نہیں سایا بھی نہیں 


‏تزئینِ  لب  و  گیسو  کیسی   پندار   کا   شیشہ   ٹوٹ   گیا

‏تھی جس کے  لیے سب آرائش اس نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں


‏جب سُست  قدم  شب  بیت  چلی  ہولے  ہولے  نیند آ ہی گئی

‏سب افسوں وقت جگاتا ہے اور وقت کبھی ٹھہرا بھی نہیں


‏فہمیدہ ریاض

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ