Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

اخلاقی درس انگریزی کہانی سے ترجمہ ترجمہ نگار: فیروز افریدی

  اخلاقی درس  انگریزی کہانی  سے ترجمہ ترجمہ نگار:  فیروز افریدی  شہر کے شاہرہ پر ایک جوان  آدمی نے اگے بڑھ کر ایک  بوڑھے شخص کو سلام کیا اور...

 


اخلاقی درس 

انگریزی کہانی  سے ترجمہ

ترجمہ نگار:  فیروز افریدی 


شہر کے شاہرہ پر ایک جوان  آدمی نے اگے بڑھ کر ایک  بوڑھے شخص کو سلام کیا اور مودبانہ انداز میں  اس کی خیریت پوچھی۔

پھر اس جوان نے بوڑھے ادمی سے پوچھا ۔

سر اگر اپ پسند فرمائیں تو ایک بات پوچھوں ؟

بوڑھے تجسس بھرے لہجے میں کہا جی پوچھئے ۔

جوان نے پوچھا سر اپ کو میں یاد ہوں کہ میں کون ہوں ۔

بوڑھے نے اسے غور سے دیکھا لیکن پہچانے میں کامیاب نہ ہوسکا ۔

جوان سمجھ گیا کہ بوڑھے شخص کو پہچاننے میں مشکل پیش ارہی ہے لہذا اس نے خود احترام اور فخریہ انداز میں کہا ۔

سر میں اپکا شاگرد ہوں فلاں ۔

بوڑھے شخص نے دماغ پر زور دیا لیکن اس نام کا کوئی لڑکا اسے یاد نہیں تھا ۔

اخر بوڑھے نے کہا بیٹا میں نے اپنے سروس میں ہزاروں طلبا کو پڑھایا ہے ۔ استاذ کی مشکل یہ ہوتی ہے کہ اخر عمر میں اسے کوئی شاگرد یاد نہیں رہتا اور ویسے بھی اس وقت شاگرد چھوٹے بچے ہوتے ہیں نعد میں بڑے ہوکر اس کی جسامت اور ناک نقشہ بھی بدل جاتی ہے ۔

پھر اس استاذ محسوس کرتا ہے کہ اسکا شاگرد اسکے سامنے نہایت ادب سے کھڑا ہے تو ازروئے مروت اس سے پوچھتا ہے -

بیٹا کام کیا کرتے ہو؟

 جوان نے جواب دیا کہ سر میں بھی 

   ایک استاد بن گیا ہوں ۔

 استاذ خوشی سے جھوم جاتا ہے اور کہتا ہے واہ کتنی بات ہے ۔ کہ تم نے بھی میری طرح استاذ بننے کا پیشہ اختیار کیا ہے ۔

جوان نے جواب دیا ہے 

 جی ہاں  درحقیقت  میں نے اپ سے متاثر ہوکر یہ پیشہ اپنایا ہے  کیونکہ آپ کی روئے اور اخلاق سے میں اتنا متاثر ہوا کہ میں نے استاذ بننے کا پکا فیصلہ خردیا تھا۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میں اپک کی نقش قدم پر چلنے کی بھرپور کوشش کررہا ہوں ۔

 

 بوڑھا استاذ  متجسس ہوکر  نوجوان سے پوچھتا ہے کہ اپ نے استاد بننے کا فیصلہ کیوں اور کب کیا؟

 جوان نے اپنے استاذ کو  یہ کہانی سنائی۔

 "ایک دن، میرا ایک کلاس فیلو جو اپکا بھی شاگرد تھا  کلاس میں ایا تو اسکی کلائی  پر بہت ہی خوبصورت گھڑی بندھی ہوئی تھی ۔ گھڑی اتنی خوبصورت تھی کہ میں  نے فیصلہ کیا کہ مجھے ہر قیمت پر یہ گھڑی لینی چاہیے۔ اور دوست سے گھڑی چرانے کا موقع ڈھونڈتا رہا ۔

بلااخر  میں نے وہ گھڑی  ان سے  چرالی۔ اور جیب میں رومال میں باندھ کر رکھ دیا ۔

 تھوڑی دیر بعد، میرے دوست نے محسوس کیا  کہ اس کی گھڑی غائب ہے لہذا اس نے اپنی جیبیں  ڈیسک کی درازیں اور کتابوں کے بستے میں  ڈھونڈنا شرور کیا جب نہ ملی تو  فوراً ہمارے  استاد سے شکایت کی۔  جو اس وقت  آپ ہی  تھے۔

اپ نے پہلے کلاس کو خطاب کہا کہ 

 کہ اس طالب علم کی گھڑی آج ہی کلاس کے دوران چوری ہو گئی ہے ۔  جس نے بھی چوری کی ہے پلیز واپس کر دو۔

 میں نے اسے واپس نہیں کیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا۔ کہ گھڑی میرے ہاتھ سے نکل جائے ۔ اور اگر واپس کرتا تو میری چوری پکڑی جاتی اور مجھے سخت شرمندگی اٹھانی پڑتی ۔

 آپ نے کلاس کا  دروازہ بند کر دیا اور ہم سب  ایک حلقے  میں کھڑا ہونے کو کہا ۔ جب سارے لڑکے سرکل یا حلقے میں کھڑے ہوئے تو اپ نے سب کو انکھیں بند کرنے کا کہا ۔ پھر جاکر ایک ایک لڑکے کی جیب کی تلاشی لے لی۔

ایک ایک لڑکے سے ہوتے ہوئے اپ نے میری جیب سے گھڑی برامد کی  لیکن پھر بھی اختیاطا سب کے جیب تلاش کئے 

 جب سب لڑکوں کی جیبوں کی تلاشی مکمل ہوگئ تو اپ نے انکھیں کھولنے کا کہا   گھڑی مل گئ  ہے۔‘

 آپ نے مجھے  نہیں بتایا اور نہ آپ نے کبھی اس  واقعے  کا ذکر  کیا۔  آپ نے کبھی بھی کلاس میں یہ  نہیں کہا کہ گھڑی کس نے چرائی تھی ۔  اس دن اپ  نے میری عزت کو   بچائی تھی اور ساری عمر کی شرمندگی سے بچایا تھا ۔

  بس مجھے سبق مل گیا تھا کہ چور بننے  اور استاذ  بننے میں کتنا بڑا فرق ہے ۔

 آپ نے کبھی کسی کو یہ میرے سامنے کچھ  کہا، نہ ہی آپ نے مجھے ڈانٹا اور نہ ہی مجھے اخلاقیات کا سبق دینے کے لیے ایک طرف لے کر نصیحت کی ۔سس دن مجھے  آپ کا پیغام واضح طور پر موصول ہواتھا۔ 

 آپ کا بہت  شکریہ سر ۔

 میں سمجھ گیا کہ ایک حقیقی معلم کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

 کیا آپ کو یہ واقعہ یاد ہے استاذ محترم ؟

 بوڑھے استاذ  نے جواب دیا، 'ہاں، مجھے چوری شدہ گھڑی کا واقعہ  یاد ہے۔ اپکو پتہ کہ میں نے سب کو انکھیں بند کرنے کا کہا تھا ۔

لیکن  یہ شاید معلوم نہیں کہ میں نے خود بھی انکھیں بند کی تھی اور مجھے اب بھی نہیں معلوم  اگر اپ خود نہ بتاتے کہ وہ گھڑی اپ کے جیب سے برامد ہوئی تھی ۔

 یہی تو  تعلیم کا جوہر ہے۔

 اگر کسی کو  درست کرنا ہے تو آپ سے  ذلیل مت کریں ۔ بلکہ اسے ایسا خاموش سبق دیں کہ زندگی بھر یاد رہ سکیں


کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ