ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے راحت اندوری ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خم...
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
راحت اندوری
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
مظفر وارثی
ایک ٹھکانا آگے آگے پیچھے ایک مسافر ہے
چلتے چلتے سانس جو ٹوٹے منزل کا اعلان کریں
میراجی

کوئی تبصرے نہیں
Hi