Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

صباؔ شاید یہاں دل کا دھڑکنا کام آ جائے (صباؔ اکبرآبادی)

  کوئی وقتِ سکوں اے گردشِ ایّام آ جائے قفس کی صبح آ جائے، چمن کی شام آ جائے ستا اِتنا نہ اے آوارگی! ایذاپسندوں کو تھکیں، اور تھک کے دل میں خ...

 


کوئی وقتِ سکوں اے گردشِ ایّام آ جائے

قفس کی صبح آ جائے، چمن کی شام آ جائے


ستا اِتنا نہ اے آوارگی! ایذاپسندوں کو

تھکیں، اور تھک کے دل میں خواہشِ آرام آ جائے


دعا کر تشنہ کامی! یہ جمودِ میکدہ ٹوٹے

تری تقدیر سے گردش میں شاید جام آ جائے


نگاہوں پر کشش کی، دل پہ تہمت بیقراری کی

مقدّر اپنا اپنا، جس پہ جو الزام آ جائے


ترے ملنے کا کیا امکان؟ لیکن ہم بھی انساں ہیں

کبھی ممکن ہے دل میں یہ خیالِ خام آ جائے


نیا کافر قدم رکھنے سے بُتخانے میں ڈرتا ہے

مبادا! لب پہ گھبرا کر خدا کا نام آ جائے


ابھی وہ میری چپ کو اپنی رسوائی بتاتے ہیں

 نہیں معلوم اِس کے بعد کیا الزام آ جائے؟


لبوں کو وقتِ آخر ذکرِ دنیا سے بچانا ہے

خدا کا ہو، تمہارا ہو، کسی کا نام آ جائے


 تجھے اے ہنسنے والے! کیا خبر ہے وسعتِ غم کی؟

خوشی دنیا کی زیرِ دامنِ آلام آ جائے


سکوتِ مستقل چھایا ہوا ہے اُن کی محفل میں

صباؔ شاید یہاں دل کا دھڑکنا کام آ جائے


(صباؔ اکبرآبادی)



کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ