کوئی وقتِ سکوں اے گردشِ ایّام آ جائے قفس کی صبح آ جائے، چمن کی شام آ جائے ستا اِتنا نہ اے آوارگی! ایذاپسندوں کو تھکیں، اور تھک کے دل میں خ...
کوئی وقتِ سکوں اے گردشِ ایّام آ جائے
قفس کی صبح آ جائے، چمن کی شام آ جائے
ستا اِتنا نہ اے آوارگی! ایذاپسندوں کو
تھکیں، اور تھک کے دل میں خواہشِ آرام آ جائے
دعا کر تشنہ کامی! یہ جمودِ میکدہ ٹوٹے
تری تقدیر سے گردش میں شاید جام آ جائے
نگاہوں پر کشش کی، دل پہ تہمت بیقراری کی
مقدّر اپنا اپنا، جس پہ جو الزام آ جائے
ترے ملنے کا کیا امکان؟ لیکن ہم بھی انساں ہیں
کبھی ممکن ہے دل میں یہ خیالِ خام آ جائے
نیا کافر قدم رکھنے سے بُتخانے میں ڈرتا ہے
مبادا! لب پہ گھبرا کر خدا کا نام آ جائے
ابھی وہ میری چپ کو اپنی رسوائی بتاتے ہیں
نہیں معلوم اِس کے بعد کیا الزام آ جائے؟
لبوں کو وقتِ آخر ذکرِ دنیا سے بچانا ہے
خدا کا ہو، تمہارا ہو، کسی کا نام آ جائے
تجھے اے ہنسنے والے! کیا خبر ہے وسعتِ غم کی؟
خوشی دنیا کی زیرِ دامنِ آلام آ جائے
سکوتِ مستقل چھایا ہوا ہے اُن کی محفل میں
صباؔ شاید یہاں دل کا دھڑکنا کام آ جائے
(صباؔ اکبرآبادی)

کوئی تبصرے نہیں
Hi