میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اُجالا، مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا، مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم میں طلوع ہو ...
میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اُجالا،
مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا،
مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا،
حبيب جالب

کوئی تبصرے نہیں
Hi