تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے کہ ہم کو تیرا نہیں انتظار اپنا ہے ملے کوئی بھی ترا ذکر چھیڑ دیتے ہیں کہ جیسے سارا جہاں راز دار اپنا ہے...
تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے
کہ ہم کو تیرا نہیں انتظار اپنا ہے
ملے کوئی بھی ترا ذکر چھیڑ دیتے ہیں
کہ جیسے سارا جہاں راز دار اپنا ہے
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا لیا دل سے
اس آسرے پہ کہ اک غمگسار اپنا ہے
فراز راحتِ جاں بھی وہی ہے کیا کیجے
وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے
احمد فراز

کوئی تبصرے نہیں
Hi