Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے احمد فراز

  تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے کہ ہم کو تیرا نہیں انتظار اپنا ہے ملے کوئی بھی ترا ذکر چھیڑ دیتے ہیں کہ جیسے سارا جہاں راز دار اپنا ہے...

 


تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے
کہ ہم کو تیرا نہیں انتظار اپنا ہے
ملے کوئی بھی ترا ذکر چھیڑ دیتے ہیں
کہ جیسے سارا جہاں راز دار اپنا ہے
وہ دور ہو تو بجا ترکِ دوستی کا خیال
وہ سامنے ہو تو کب اختیار اپنا ہے
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا لیا دل سے
اس آسرے پہ کہ اک غمگسار اپنا ہے
فراز راحتِ جاں بھی وہی ہے کیا کیجے
وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے
احمد فراز

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ