Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

  چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا  عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا  اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی  اہل کتاب نے مگر کیا ...

 

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا 

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا 


اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی 

اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا 


ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی 

اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا 


اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر 

بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا 


ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا 

ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا 


میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو 

شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا 


چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے 

وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا 


مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا 

منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ