Page Nav

HIDE

تازہ ترین:

latest

پشتو کے معروف شاعر و ادیب خالد خان حسرت

  پشتو کے معروف شاعر و ادیب خالد خان حسرت پشتو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ثقافتی شخصیت خالد خان حسرت کا تعلق ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ کے تاریخی گ...

 





پشتو کے معروف شاعر و ادیب خالد خان حسرت


پشتو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ثقافتی شخصیت خالد خان حسرت کا تعلق ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ کے تاریخی گاؤں کرنل شیر خان کلے سے ہے۔ 1963ء میں پیدا ہونے والے خالد خان حسرت نے اپنی زندگی پشتو زبان، ادب اور ثقافت کی ترویج و خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔


انہوں نے 1980ء میں اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا اور بعد ازاں “پشتو ادبی تړون صوابی” سے وابستہ ہوئے، جہاں رکن کی حیثیت سے آغاز کرتے ہوئے سیکرٹری کے عہدے تک پہنچے۔ روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب اور بعد ازاں متحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران بھی انہوں نے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ بیرونِ ملک قائم پشتو ادبی و ثقافتی تنظیم میں وہ سرگرم رکن رہے اور بعد میں سیکرٹری اور صدر کے فرائض بھی انجام دیے۔


خالد خان حسرت کے تین شعری مجموعے “وچې پاڼې”، “ګل راسره وژړل” اور “وران تصوير” شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی شاعری میں اپنی دھرتی، قوم، مزاحمت، انسانی احساسات اور سماجی مسائل کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے، جس نے انہیں پشتو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔


ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 2025ء میں جامعہ پشاور کے شعبۂ پشتو سے ان کی مزاحمتی شاعری پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ مکمل کیا گیا، جس کا عنوان “د خالد حسرت د مزاحمتي شاعرۍ تجزیاتي مطالعه” ہے۔ اس تحقیق کے اسکالر عثمان ننگیال ہیں، جبکہ اس مقالے کو زمشال پریس، پشاور نے 2025ء میں کتابی صورت میں شائع کیا۔


یہ علمی کاوش خالد خان حسرت کی ادبی خدمات اور ان کی مزاحمتی شاعری کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ ہے، جو پشتو ادب کے طلبہ، محققین اور ادب سے محبت رکھنے والوں کے لیے یقیناً نہایت مفید ثابت ہوگی۔


خالد خان حسرت بلاشبہ کرنل شیر خان کلے، ضلع صوابی اور پشتو ادب کا ایک قابلِ فخر نام ہیں، جن کی ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

Hi

ہم سے رابطہ