بُتوں سے مجھکو اجازت اگر کبھی مل جائے تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں ہے میرے چاروں طرف بِھیڑگونگے بہروں کی کسےخطیب بناؤں کسےخطاب کرو...
بُتوں سے مجھکو اجازت اگر کبھی مل جائے
تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں
ہے میرے چاروں طرف بِھیڑگونگے بہروں کی
کسےخطیب بناؤں کسےخطاب کروں
یہ زندگی جو مجھے قرض دار کرتی ہے
کہیں اکیلے میں مل جائے تو حساب کروں
راحت اندوری

کوئی تبصرے نہیں
Hi